سوات خودکش حملہ،جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہو گئی،مقدمہ درج

سکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر اور ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

August 3, 2026 · قومی

سوات کے علاقے کبل میں تھانے کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق شہداء میں 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں، جبکہ 23 افراد زخمی ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق زخمی پولیس کانسٹیبل مکرم خان دوران علاج دم توڑ گئے، جس کے بعد شہداء کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا۔ وہ دھماکے کے بعد سیدو شریف اسپتال میں زیر علاج تھے۔

تحقیقاتی اداروں کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ خودکش نوعیت کا تھا۔ جائے وقوعہ سے حملہ آور کی باقیات بھی ملی ہیں، جبکہ بم ڈسپوزل یونٹ دھماکے میں استعمال ہونے والے بارودی مواد اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہا ہے۔

سکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر اور ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں کچھ شواہد حملہ آور کی شناخت سے متعلق سامنے آئے ہیں، تاہم حتمی تصدیق مکمل تحقیقات اور فرانزک رپورٹ کے بعد ہی کی جائے گی۔

ضلعی پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے اور حملے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

دوسری جانب واقعے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی کے تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ادھر حملے میں شہید ہونے والے پانچ پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ تقریب میں پولیس، سول انتظامیہ، سکیورٹی اداروں کے افسران، سرکاری نمائندوں اور شہداء کے اہل خانہ نے شرکت کی۔

نماز جنازہ کے دوران شہداء کو سلامی پیش کی گئی، ان کی میتوں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور ملکی امن و سلامتی کے لیے ان کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ بعد ازاں شہداء کی میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔