عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں نے پھر اُڑان بھر لی
تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت میں تعطل کے باعث دیکھنے میں آیا ہے
عالمی منڈی میں کاروبار کے آغاز پر خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات اور خطے میں جاری کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد سے زائد اضافے کے بعد 84 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی تقریباً ایک فیصد مہنگا ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت میں تعطل کے باعث دیکھنے میں آیا ہے، جس نے عالمی توانائی منڈی میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں اس وقت کمی دیکھی گئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق تنازع کے سفارتی حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے نئے حملوں سے گریز کا عندیہ دیا تھا۔
تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے جاری مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان نہ تو مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور سفارتی پیش رفت آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔