نئے صوبوں کے ساتھ موثر اور بااختیار بلدیاتی نظام بھی ضروری،سیاسی ماہرین
سابق وزرا نے آئینی ترامیم، نئے صوبوں اور مقامی حکومتوں کو ناگزیر قرار دیا
فائل فوٹو
سابق وفاقی وزرا، سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے لاہور میں منعقدہ ایک سیمینار میں نئے صوبے بنانے اور بلدیاتی نظام کو اختیارات دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔
یونیورسٹی آف لاہور کے زیراہتمام “گورننس لیکن نظام کیا ہو” کے موضوع پر خصوصی سیمینار منعقد ہوا، جس سے محمد علی درانی، انوار الحق کاکڑ، وسیم اختر، فواد چوہدری، لیاقت بلوچ، اسد عمر، احسن بھون اور دیگر نے خطاب کیا۔
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے اور وہ پہلے بھی جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی بات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس سیاسی جماعت کو حکومت کی پیشکش ہوتی ہے وہ فارم 47 کا ہار پہن کر اقتدار میں آ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ وہاں کسی خاندان کی نوکری کرنا پڑے گی، خاندانی سیاست کے خاتمے سے نظام میں بہتری آئے گی۔
سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں سویلین سپریمیسی نہیں ، عام آدمی کی بات نہیں سنی جاتی اور ملک مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے مؤثر بلدیاتی نظام اور انتظامی یونٹس کے قیام کو ضروری قرار دیا۔
ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ نظام 25 سال پہلے ہی تباہ ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق وہ بلدیاتی نظام کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں اور 18ویں ترمیم کی بھی اسی مقصد کے لیے حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے کی بات کرتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ وسیم اختر نے کہا کہ انہوں نے چار سال بلدیاتی نظام کے لیے جدوجہد کی، جیل بھی گئے اور وہ دنیا کے واحد میئر ہیں جو جیل سے الیکشن لڑ کر کامیاب ہوئے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں 47 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں 40 فیصد بچوں کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے محسن نقوی کے اس بیان سے اتفاق کیا کہ نظام بیٹھ چکا ہے اور نئے نظام کی ضرورت ہے، تاہم نئے صوبوں کے معاملے پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کئی ممالک سے بڑے ہیں، اس لیے نئے صوبے بنائے جائیں، لوکل گورنمنٹ سسٹم نافذ کیا جائے اور ڈویژنز کو صوبے بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک ان مسائل کا بہترین حل عمران خان کے پاس ہے، جو اس وقت جیل میں ہیں، جبکہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے بجائے شخصیات کا غلبہ ہے۔
سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں جمہوریت کے سوا کوئی نظام نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء کا آئین بنانے والوں نے ملک پر احسان کیا اور بلدیاتی نظام کے نفاذ کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں صرف 5 فیصد ، چین میں 60 فیصد فنڈز مقامی حکومتیں خرچ کرتی ہیں، اس لیے این ایف سی ایوارڈ میں تھرڈ ٹیئر کے لیے بھی فنڈز مختص ہونے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا یقین تھا کہ لوکل گورنمنٹ نظام کے بغیر پاکستان نہیں چل سکتا اور ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کا لیڈر اس وقت جیل میں ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک بچپن سے بحرانوں کا شکار ہے۔ ان کے مطابق بلدیاتی نظام کے بعد صدارتی نظام پر بھی بحث ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان جل رہا ہے، مسائل حل کرنے کے بجائے توجہ آزاد کشمیر کی طرف موڑ دی گئی ہے، جبکہ آئین کی بالادستی، عدل و انصاف اور سیاسی جماعتوں میں شخصیات کی اجارہ داری کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
سابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف، نواز شریف اور بلاول بھٹو نہیں چاہتے کہ نئے صوبے بنیں، اگرچہ سیاسی نعرے کے طور پر اس کی حمایت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ہم آہنگی کے ساتھ آئینی طریقہ کار کے مطابق نظام چلانا چاہیے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا چاہیے۔