پاکستان میں 32 نئے صوبے اور 33 ہائی کورٹس بنانے کی تجویز، پریزنٹیشن تیار

مجوزہ منصوبے کے تحت پنجاب میں 10، سندھ میں 7، خیبر پختونخوا میں 7 اور بلوچستان میں 8 نئے صوبے قائم کیے جائیں گے۔40 ہزار سرکاری آسامیاں ختم کرنے کی سفارش

August 4, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: طاقتور حلقوں کی جانب سے پاکستان میں انتظامی بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے 32 نئے صوبے بنانے کا ایک تفصیلی خاکہ اور پریزنٹیشن تیار کر لی گئی ہے۔ اس تجویز کے مطابق ملک کو مجموعی طور پر 33 انتظامی اکائیوں (Federating Units) میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں اسلام آباد بطور وفاقی دارالحکومت برقرار رہے گا جبکہ چاروں صوبوں کی ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دیا جائے گا۔

مجوزہ منصوبے کے تحت پنجاب میں 10، سندھ میں 7، خیبر پختونخوا میں 7 اور بلوچستان میں 8 نئے صوبے قائم کیے جائیں گے۔ اس نئی تقسیم کے بعد ملک میں 33 ہائی کورٹس قائم ہوں گی جن میں مجموعی طور پر 137 ججز فرائض انجام دیں گے۔

دستاویزات کے مطابق اس اہم انتظامی تبدیلی سے قومی خزانے کو سالانہ 318 ارب روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ بچت 40 ہزار سے زائد غیر ضروری انتظامی آسامیوں کے خاتمے سے ممکن ہوگی، جبکہ عدلیہ کا موجودہ 56 ارب روپے کا بجٹ کم ہو کر 24 ارب روپے رہ جائے گا۔ نئے نظام میں تعلیم، صحت اور فنانس سمیت 40 سے زائد محکمے مکمل طور پر صوبوں کو منتقل ہو جائیں گے۔

قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد وہی رہے گی، تاہم وہ آبادی کے تناسب سے اپنی چھوٹی صوبائی اسمبلیوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔

33 نئے وزرائے اعلیٰ بننے سے چند مخصوص سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری ختم ہوگی اور مقامی سطح پر نئی سیاسی قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔

پریزنٹیشن میں یہ دلائل دیے گئے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ چاروں صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک، حتیٰ کہ چین اور بھارت کے صوبوں سے بھی بڑے ہیں۔

2.5 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، اور پاکستان انسانی ترقی کے انڈیکس میں 193 میں سے 168ویں نمبر پر ہے ۔ چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے وسائل نچلی سطح تک پہنچیں گے اور طرزِ حکمرانی بہتر ہوگا۔

پریزنٹیشن میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ صوبے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں، جس کی وجہ سے گورننس میں مشکلات درپیش ہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے نہ صرف مخصوص خاندانوں کی سیاسی اجارہ داری ختم ہو گی بلکہ مقامی سطح پر نئی قیادت بھی ابھرے گی۔

دوسری جانب سیاسی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں بھاری ترمیم درکار ہو گی، جو موجودہ طریقہ کار کے تحت انتہائی مشکل عمل ہے اور اس حوالے سے قومی سطح پر وسیع اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہو گا۔