وائٹ ہاؤس نے اسلحہ ذخائر میں کمی کی رپورٹس مسترد کر دیں
اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو مستقبل کی فوجی حکمت عملی پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے۔
واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی میزائل ذخائر سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس اب بھی دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ دفاعی اور حملہ آور اسلحہ موجود ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے دوران امریکا نے اپنے بعض طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کے ذخائر کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے، جس کے باعث کچھ ہتھیاروں کی دستیاب مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج نے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز (ATACMS)، پریسیژن اسٹرائیک میزائلوں اور ٹوماہاک کروز میزائلوں کے ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کیا، جبکہ بعض فوجی حکام نے دفاعی میزائلوں کی دستیابی سے متعلق بھی اعلیٰ قیادت کو آگاہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج ضرورت کے مطابق دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود اپنے اسلحہ ذخائر سے ہتھیار منتقل کر کے ضروریات پوری کر رہی ہے، جبکہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو مستقبل کی فوجی حکمت عملی پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی دفاعی صلاحیت برقرار ہے اور اس کے پاس دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ اسلحہ موجود ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ملکی سلامتی اور فوجی تیاریوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔