ایرانی صدر نے استعفے اور اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کر دیا
اگر وہ کبھی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کریں گے تو اس کا اعلان خود کریں گے، تاہم اس وقت ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور اپنی آئینی ذمہ داریاں بدستور انجام دے رہے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کو حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پزشکیان نے کہا کہ اگر وہ کبھی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کریں گے تو اس کا اعلان خود کریں گے، تاہم اس وقت ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔
انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ اختلافات کی خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملکی قیادت، حکومت اور مسلح افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور باہمی تعاون موجود ہے۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر حکومت اور اعلیٰ قیادت کے درمیان اختلافات کا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ ریاستی ادارے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی صدر کے نائب انفارمیشن افسر مہدی طباطبائی بھی استعفے سے متعلق خبروں کی تردید کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق بعض عناصر سیاسی مقاصد کے تحت ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں تاکہ قومی اتحاد کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران داخلی سیاسی صورتحال اور علاقائی پیش رفت کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ان کے حالیہ بیان کو قیادت کے درمیان اتحاد اور حکومتی استحکام کے پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔