کشمیر پر پانچ اگست کا قبضہ دو قومی نظریہ ختم کرنے کی تعبیر،مودی نے خطرناک پیغام جاری کردیا

دو قومی نظریے کے مخالف ہندوتوا رہنما کو خراج تحسین ، شیاما پرساد مکھرجی نے جو سوچا تھا 2019 میں پورا ہوگیا، بھارتی وزیراعظم

August 5, 2026 · بام دنیا

نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کی ساتویں سالگرہ کے موقع پر جاری پیغام میں اسے جموں و کشمیر اور لداخ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔

نریندر مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کے سفر میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے بعد ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور عوامی مواقع میں اضافہ ہوا۔

بھارتی وزیراعظم کے مطابق گزشتہ سات برسوں میں جموں و کشمیر اور لداخ میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، کاروبار اور کھیلوں کے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور پسماندہ طبقات کو بھارتی آئین کے مکمل اطلاق کے باعث زیادہ حقوق اور مواقع حاصل ہوئے۔

مودی نے اپنے پیغام میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ قومی یکجہتی کے حوالے سے ان کا وژن 5 اگست 2019 کو مکمل ہوا۔ انہوں نے مکھرجی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نظریات آج بھی لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

شیاما پرساد مکھرجی کون تھے؟

ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی 6 جولائی 1901 کو کولکتہ میں پیدا ہوئے۔ وہ بھارتی سیاست، تعلیم اور نظریاتی تحریکوں میں ایک نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ ممتاز ماہر تعلیم سر آشوتوش مکھرجی کے صاحبزادے تھے اور کم عمری میں ہی تعلیمی و سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے تھے۔

مکھرجی نے کولکتہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں اسی ادارے کے کم عمر ترین وائس چانسلرز میں شمار ہوئے۔ انہوں نے برطانوی دور میں سیاست میں قدم رکھا اور بعد میں بھارتی حکومت میں صنعت و رسد کے وزیر بھی رہے۔

1940 اور 1950 کی دہائی میں وہ ہندو قوم پرست سیاسی نظریات کے اہم رہنماؤں میں شامل ہوگئے۔ 1951 میں انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا، جسے بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی بنیاد سمجھا گیا۔

جموں و کشمیر کے معاملے پر مکھرجی خصوصی آئینی حیثیت کے مخالف تھے۔ وہ اس وقت کے بھارتی آئین میں ریاست جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے۔ ان کا مشہور مؤقف تھا کہ ایک ملک میں الگ قوانین اور الگ انتظامی نظام نہیں ہونا چاہیے۔

1953 میں جموں و کشمیر میں داخلے کے دوران انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ دوران حراست 23 جون 1953 کو ان کا انتقال ہوگیا۔ بی جے پی اور اس سے وابستہ سیاسی حلقے انہیں قومی اتحاد کے حامی رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں، جبکہ ان کی سیاسی سوچ پر مختلف حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کا فیصلہ

بھارت کی حکومت نے 5 اگست 2019 کو آئینی تبدیلیوں کے ذریعے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا تھا، جس کے بعد سابق ریاست جموں و کشمیر کو دو وفاقی علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا۔

بھارتی حکومت نے اس اقدام کو قومی یکجہتی، ترقی اور یکساں قوانین کے نفاذ کیلئے ضروری قرار دیا، جبکہ پاکستان اور بعض کشمیری سیاسی حلقوں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے متنازع اقدام قرار دیا۔

مودی نے اپنے تازہ پیغام میں کہا کہ حکومت جموں و کشمیر اور لداخ کی ترقی کیلئے مسلسل کام جاری رکھے گی اور ہر شہری کو بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔