الیکشن کمیشن کا ارکان پارلیمنٹ کے مالی گوشواروں کی براہ راست جانچ کا فیصلہ

بینکوں، سرکاری اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کی گئی معلومات مقررہ وقت میں فراہم کرنا ہوں گی

August 5, 2026 · قومی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان پارلیمنٹ کے مالی گوشواروں میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے ایک اہم اقدام کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کمیشن خود منتخب نمائندوں کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کی چھان بین کر سکے گا۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 137 میں ترمیم کی تجویز تیار کی ہے، جس کے ذریعے کمیشن کو ارکان پارلیمنٹ کے مالی گوشواروں کی براہ راست جانچ پڑتال کا اختیار دیا جائے گا۔

مجوزہ ترمیم کے مطابق اگر کسی رکن پارلیمنٹ کے اثاثے یا مالی گوشوارے اس کے معلوم ذرائع آمدن سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو الیکشن کمیشن کو براہ راست کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

تجویز میں یہ بھی شامل ہے کہ بینکوں، سرکاری اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کی گئی معلومات مقررہ وقت میں فراہم کرنا ہوں گی۔ معلومات فراہم نہ کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے گی۔

الیکشن کمیشن نے مجوزہ ترامیم عوامی رائے کیلئے جاری کر دی ہیں اور شہریوں، ماہرین اور متعلقہ فریقین سے 15 اگست تک تجاویز اور اعتراضات طلب کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق موصول ہونے والی آرا کا جائزہ لینے کے بعد الیکشن کمیشن ترامیم کو حتمی شکل دے گا، جس کے بعد ارکان پارلیمنٹ کے مالی معاملات کی نگرانی کا نیا طریقہ کار نافذ کیا جا سکتا ہے۔