حسینہ واجد کا نئی دہلی سے خطاب، بنگلہ دیش میں شدید غصہ، بھارت کو وارننگ

سابق وزیرِ اعظم نے دسمبر میں وطن واپسی کا اعلان کیا، بھارت نے ایونٹ سے لاتعلقی ظاہر کردی

August 6, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

بنگلہ دیش نے بھارت میں مقیم سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے ورچوئل میڈیا کے ذریعے خطاب کیا ہے جو جلاوطنی کے بعد پہلا ایسا واقعہ ہے۔ اس پر بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے شدید سفارتی احتجاج کرتے ہوئے نئی دہلی سے ان کی فوری حوالگی کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔ ڈھاکا کا کہنا ہے کہ ایک مفرور اور سزا یافتہ شخصیت کو بھارتی سرزمین سے سیاسی خطاب کی اجازت دینا دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

شیخ حسینہ نے نئی دہلی میں فارن کراسپونڈنٹس کلب کے زیرِ اہتمام ایک ورچوئل پریس کانفرنس سے آڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ رواں سال دسمبر تک بنگلہ دیش واپس جائیں گی۔ ان کا یہ خطاب بھارتی ٹی وی چینلز نے بھی نشر کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت عوامی لیگ کے دیگر رہنما عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ حسینہ واجد کا دعوی تھا کہ ان کے خلاف جولائی 202 کی تحریک کوئی عوامی رد عمل نہیں تھا بلکہ اس وجہ سے میں منصوبہ تھا۔

سابق وزیرِ اعظم نے موجودہ بنگلہ دیشی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملک میں خوف کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بھارت میں پناہ فراہم کرنے پر بھارتی حکومت اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کرنے لگے کہ شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش اور بھارت کے مغربی بنگال کو متحد کرنے یا دونوں کے درمیان سرحدیں ختم کرنے کی بات کی ہے، تاہم دستیاب خطاب کے مندرجات میں ایسا کوئی بیان موجود نہیں۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال خطے کے امن اور بھارت کی سرحدی سلامتی کے لیے بھی چیلنج بن سکتی ہے۔

اس خطاب پر ردعمل میں بنگلہ دیش کے دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی سرزمین پر شیخ حسینہ کو میڈیا سے خطاب کی اجازت دینا بنگلہ دیشی عوام، خصوصاً جولائی 2024 کی تحریک کے متاثرین اور شہدا کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ خطاب ان واقعات سے متعلق سامنے آنے والی بین الاقوامی رپورٹس کو جھٹلانے کی کوشش ہے۔

ڈھاکا نے 2013 کے حوالگی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ شیخ حسینہ کو فوری طور پر بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اپنے خلاف عدالتی فیصلوں اور مقدمات کا سامنا کر سکیں۔

بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے ایک طویل بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش اس بات پر شدید برہم ہے کہ مفرور، سزا یافتہ نسل کشی کی مجرم شیخ حسینہ کو آج شام نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ سے براہِ راست گفتگو کی اجازت دی گئی، جہاں انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ریاستِ بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز بیانات دیے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ ڈھاکا کو اس بات پر گہرا افسوس ہے کہ اس تقریب کے ہماری دوطرفہ تعلقات کی بحالی پر ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات پیشگی طور پر بھارتی حکومت تک پہنچانے کے باوجود اس عوامی پروگرام کے انعقاد کی اجازت دی گئی، جس دن بنگلہ دیش کے عوام جولائی انقلاب کی دوسری برسی منا رہے ہیں، اسی دن بھارتی سرزمین پر شیخ حسینہ کی یہ میڈیا سے گفتگو بنگلہ دیش کی خودمختاری کی کھلی توہین اور جولائی انقلاب کے شہدا کی شدید بے حرمتی کے مترادف ہے۔

بنگلہ دیش نے بھارت کو دو طرفہ تعلقات خراب ہونے کی وارننگ بھی دی۔ بیان میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ خودمختار برابری، باہمی احترام، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور قومی وقار کے اصولوں پر مبنی تعمیری، باہمی مفاد پر مبنی اور مستقبل پر نظر رکھنے والے تعلقات کا خواہاں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے 2013 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے حوالگی معاہدے کے تحت سزا یافتہ مجرم شیخ حسینہ کو واپس بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کی بارہا درخواستوں کے باوجود حکومتِ ہند کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، کسی بھی بہانے سے انہیں میڈیا کے ساتھ کھلے عام گفتگو کا موقع فراہم کرنا ہمارے عوام کے جذبات کو شدید مجروح کرتا ہے اور بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان خوشگوار دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے نقصان دہ ہے۔

شیخ حسینہ اگست 2024 میں عوامی احتجاج اور حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت منتقل ہوگئی تھیں۔ بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنا چکی ہے، تاہم بھارت نے اب تک ان کی حوالگی نہیں کی۔

دوسری جانب بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ مذکورہ پریس کانفرنس ایک نجی ادارے کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی تھی اور اس سے بھارتی حکومت کا کوئی تعلق یا سرکاری تائید نہیں تھی۔