ایرانی حکومت پر تنقید کرنے والی دو فٹبالرز آسٹریلیا کی شہری بن گئیں
34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ اور 22 سالہ فاطمہ پسندیدہ کو ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلوی شہریت کے سرٹیفکیٹس دیے گئے۔
برسبین: ایران کی دو خواتین فٹبالرز، جنہوں نے ماضی میں ایرانی حکومت پر تنقید کی تھی، آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر کے اپنے نئے سفر کا آغاز کر دیا۔
34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ اور 22 سالہ فاطمہ پسندیدہ کو ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلوی شہریت کے سرٹیفکیٹس دیے گئے۔
شہریت حاصل کرنے کے بعد عاطفہ رمضانی زادہ نے اس موقع کو اپنی زندگی کا یادگار دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ ان کے لیے باعثِ فخر اور شکرگزاری ہے۔ فاطمہ پسندیدہ نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب آسٹریلیا کو اپنا گھر کہنے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں کھلاڑیاں ان سات ایرانی قومی ٹیم کے ارکان میں شامل تھیں جو رواں سال ویمنز ایشین کپ کے سلسلے میں آسٹریلیا آئی تھیں۔ بعد ازاں انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے دیے گئے، تاہم دیگر پانچ کھلاڑی بعد میں ایران واپس چلی گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ قومی ترانے کے دوران خاموش رہنے کے باعث بعض کھلاڑیوں کو وطن واپسی پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے بعد آسٹریلیا میں مقیم ایرانی برادری کی اپیل پر انہیں پناہ کی درخواست دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔
دونوں فٹبالرز اب آسٹریلیا کی خواتین کی پیشہ ور فٹبال لیگ کی ٹیم برسبین رور کے ساتھ تربیت حاصل کر رہی ہیں اور وہ اپنا کھیلوں کا کیریئر آسٹریلیا میں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا میں امیگریشن قوانین مزید سخت کرنے سے متعلق تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ پناہ گزینوں اور انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں پر بھی ملک میں بحث جاری ہے۔