حوثیوں نے فوجی کیمپوں پر حملے میں 30 اہلکار ہلاک ، 50 زخمی ہونے کی تصدیق کر دی
یہ حملے یمن کے علاقوں مأرب اور حضرموت کے صوبوں میں قائم فوجی اڈوں پر کیے گئے۔
فائل فوٹو
صنعا: یمنی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حوثی جنگجوؤں کے متعدد آرمی کیمپوں پر حملے میں 30 اہلکار ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ حملے یمن کے علاقوں مأرب اور حضرموت کے صوبوں میں قائم فوجی اڈوں پر کیے گئے۔
یمنی حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے ایک ہی وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا اور فورسز کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا جس کے باعث فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
زخمی ہونے والے درجنوں اہلکاروں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جبکہ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حالیہ حملوں نے غیر رسمی امن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یمن دوبارہ وسیع پیمانے پر خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے حملوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم ان کے میڈیا ونگ نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی ایک اہم فوجی آپریشن کے بارے میں بیان جاری کریں گے۔
تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملوں میں ڈرون، بیلسٹک میزائل یا دیگر ہتھیار استعمال کیے گئے یا نہیں تاہم ماضی میں حوثی ایسی کارروائیوں میں ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی ایران، امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز، غزہ اور خلیج میں جاری سفارتی و عسکری سرگرمیوں کے باعث پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔