میر رضا علی کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا،والدین کا دعویٰ

انہیں قبرکشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے بھی جانا پڑا تاکہ طبی شواہد کی بنیاد پر حقیقت سامنے آسکے۔اہلخانہ

August 8, 2026 · قومی

 کراچی: نوجوان تاجر  25 سالہ میر رضا علی کی پراسرار موت کے معاملے میں اہلخانہ نے ایک بار پھر قتل کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ اور طبی شواہد سے ان کے اس مؤقف کی تائید ہوئی ہے کہ میر رضا علی کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔

میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوئے تھے، جس کے اگلے روز گلستانِ جوہر کے علاقے میں جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تفتیش میں پولیس کی جانب سے خودکشی کے امکان کو بھی زیرِ غور لایا گیا، تاہم اہلخانہ پہلے دن سے ہی اسے قتل قرار دیتے رہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر رضا علی کے اہلخانہ نے کہا کہ انہوں نے جس حالت میں اپنے بچے کی لاش دیکھی تھی، اسی وقت سے ان کا مؤقف تھا کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔ خاندان کے مطابق وہ گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل یہ بات کہہ رہے تھے کہ میر رضا علی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

اہلخانہ کا کہنا تھا کہ انہیں بار بار خودکشی کے امکان کے بارے میں بتایا جاتا رہا، جبکہ وہ پہلے دن سے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کررہے تھے۔ ان کے مطابق خاندان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ اگر قتل ہوا ہے تو اس میں ملوث افراد کا سراغ لگایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سامنے لایا جائے۔

والدین نے پولیس اور متعلقہ حکام کے طرزِ تفتیش پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں تحقیقات کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کسی افسر کی جانب سے بات کی گئی اور کبھی کسی دوسرے ذریعے سے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اصل سوالات کے جواب نہیں مل سکے۔

اہلخانہ نے بتایا کہ انہیں قبرکشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے بھی جانا پڑا تاکہ طبی شواہد کی بنیاد پر حقیقت سامنے آسکے۔ ان کے مطابق میر رضا علی ایک محنتی، تعلیم یافتہ اور کامیاب نوجوان تھے اور ان کے بارے میں خودکشی سے متعلق باتیں خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھیں۔

خاندان کا کہنا ہے کہ اگر میر رضا علی نے خودکشی کی ہوتی تو بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ذریعے یہ حقیقت سامنے آسکتی تھی، لیکن اب ان کے مطابق سامنے آنے والی نئی رپورٹ نے معاملے کو مختلف رخ دیا ہے۔

اہلخانہ نے کہا کہ وہ تفتیش خود نہیں کرسکتے اور نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ میر رضا علی کے قتل میں کون ملوث ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول یہ معلوم کرنا پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہ میر رضا علی کے قتل میں کون سے افراد ملوث ہوسکتے ہیں، اہلخانہ نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس تفتیش کے وسائل اور معلومات موجود ہیں، اس لیے وہی معلوم کرے کہ واقعے کے پیچھے کون ہے اور قتل کیوں کیا گیا۔

اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ میر رضا علی کی موت کو خودکشی قرار دینے کے بجائے قتل کے پہلو سے مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی شخص کا کردار سامنے آتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

خاندان نے مزید کہا کہ وہ آج بھی یہی مطالبہ کررہے ہیں کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ میر رضا علی کے ساتھ کیا ہوا، انہیں کس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی موت کے ذمہ دار کون ہیں۔

دوسری جانب پولیس کی تفتیش جاری ہے، جبکہ کیس میں سامنے آنے والے طبی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر حتمی قانونی مؤقف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔