مصنوعی ذہانت پر بل گیٹس کا دنیا کو بڑا انتباہ

مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار، سائبر سکیورٹی اور انسانی رویوں سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں

September 22, 2026 · بام دنیا
مصنوعی ذہانت پر بل گیٹس کا دنیا کو بڑا انتباہ

مصنوعی ذہانت پر بل گیٹس کا دنیا کو بڑا انتباہ

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں معاشرے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

ایک انٹرویو میں بل گیٹس کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار، سائبر سکیورٹی اور انسانی رویوں سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں، تاہم حکومتوں کی جانب سے ان ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے مناسب تیاری نظر نہیں آتی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے نتیجے میں کئی ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ سائبر حملوں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام کے حد سے زیادہ استعمال یا انحصار جیسے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔

بل گیٹس نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل وہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید تھے، تاہم اب اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ منفی اثرات کے باعث ان کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔

اس کے باوجود بل گیٹس اور ان کی فلاحی تنظیم کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ امیر اور غریب کے درمیان موجود فرق کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

گیٹس فاؤنڈیشن نے تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے ذریعے ایسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی جو مختلف زبانوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

بل گیٹس کے مطابق صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے امکانات کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نئی ادویات اور ویکسینز کی تیاری اور دریافت کے عمل کو تیز کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کریں۔ ان کے مطابق اس صورتحال کو قدرتی آفات پر مبنی فلموں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے، جہاں بڑے خطرے سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک کو متحد ہونا پڑتا ہے۔

بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کو ایسی غیر مانوس ذہانت سے بھی تشبیہ دی جو اب انسانی معاشرے کا حصہ بن چکی ہے۔

اس سے قبل اگست 2026 کے اختتام پر ایک تحریر میں بھی بل گیٹس نے تجویز دی تھی کہ بعض مخصوص شعبوں میں انسانی ملازمتوں کو محفوظ رکھا جائے تاکہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ان شعبوں میں مکمل طور پر انسانی کردار کی جگہ نہ لے سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں مسلسل بہتری کے باعث مستقبل میں متعدد ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں، اس لیے کچھ ایسے شعبے مختص کیے جانے چاہئیں جہاں انسانی موجودگی ضروری سمجھی جائے۔

بل گیٹس نے مثال دیتے ہوئے طبی شعبے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے حساس معاملات میں انسانی کردار برقرار رہنا چاہیے، خصوصاً جب کسی مریض کو سنگین یا ناقابل علاج بیماری کے بارے میں اطلاع دینی ہو۔