آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کے سامنے 6 مطالبات رکھ دیے

ایران کے یہ مطالبات پہلے سے سامنے آنے والے مؤقف سے مختلف نہیں، تاہم آبنائے ہرمز کے معاملے پر ذوالقدر کے تازہ بیان سے تہران کے سخت مؤقف کا اندازہ ہوتا ہے۔

August 9, 2026 · بام دنیا

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر امریکا کے سامنے متعدد شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان مطالبات پر پیش رفت کے بغیر اہم آبی گزرگاہ کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت تک بحری آمد و رفت کے لیے نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا تہران کے چھ اہم مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔

ایرانی مطالبات میں امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں میں نرمی، جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ، ایران کے خلاف عسکری دھمکیوں کا سلسلہ بند کرنا اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے یہ مطالبات پہلے سے سامنے آنے والے مؤقف سے مختلف نہیں، تاہم آبنائے ہرمز کے معاملے پر ذوالقدر کے تازہ بیان سے تہران کے سخت مؤقف کا اندازہ ہوتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال رکھنے کے لیے نئے انتظامات پر مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں جانب سے ان مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم کسی ممکنہ معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔ ان کے مطابق گزرگاہ کھولنے کا فیصلہ دیگر شرائط کی تکمیل سے منسلک ہوگا۔

اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار عمان اور امریکا کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو حتمی شکل دینے کے لیے تہران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کے منتظر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے حتمی منظوری جلد دیے جانے کی توقع تھی۔

دوسری جانب رائٹرز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور واشنگٹن کو امید ہے کہ جلد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق ممکنہ معاہدے کے اعلان کے بعد واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

محمد باقر ذوالقدر کے تازہ بیان کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ اسی ادارے کے سربراہ انتظامی عہدے پر ہیں جس کے بارے میں رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ممکنہ معاہدے پر ایران کا حتمی فیصلہ اسی ادارے کے ذریعے ہوگا۔

دریں اثنا محمد باقر ذوالقدر کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے عہدے سے الگ ہونے کی اطلاعات بھی زیرِ گردش ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے استعفیٰ پیش کیا ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مبینہ طور پر استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں ذمہ داریاں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل اور گیس کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی بندش یا بحری آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔