آبنائے ہرمز کھلنے میں تاخیر،عالمی منڈی میں تیل مہنگا
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.09 فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت 84.46 ڈالر تک پہنچ گئی
آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت بحال ہونے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان متبادل بحری راستوں سے متعلق بات چیت آخری مرحلے میں پہنچ گئی ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو ایران کی جانب سے رکھی گئی دیگر شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.09 فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت 84.46 ڈالر تک پہنچ گئی۔ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی 0.78 فیصد اضافے کے بعد 78.79 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
دونوں اہم بینچ مارک گزشتہ ہفتے 7 فیصد سے زیادہ سستے ہوئے تھے، جس کی بڑی وجہ یہ امید تھی کہ ایران اور عمان کے درمیان پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہوسکتی ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں آبنائے ہرمز کا اہم کردار ہے اور جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، تاہم آبنائے کھولنے کا فیصلہ امریکا کی جانب سے دیگر شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگا۔
ماہرین کے مطابق مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث تاجر حتمی معاہدے اور بحری جہازوں کی باقاعدہ آمدورفت کی تصدیق کے منتظر ہیں۔ ایسی پیش رفت سے عالمی تیل کی قیمتوں میں موجود اضافی خطرے کا اثر کم ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب خطے میں توانائی کی تنصیبات اور بحری راستوں کو لاحق خطرات نے عالمی سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سعودی عرب میں ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ خلیجی خطے میں تجارتی جہازوں کی سلامتی پر بھی تشویش برقرار ہے۔
صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں آبنائے ہرمز کی بحالی، علاقائی کشیدگی اور تیل کی مستقبل کی قیمتوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔