آزادکشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنا ،آرٹیکل 370 کے بھارتی اقدام جیسامطالبہ

ہجرت کرکے بھارت جانے والے کشمیری ہند وئوں کے لیے الگ نشستیں نہیں

August 10, 2026 · امت خاص

آزاد کشمیر اسمبلی۔فائل فوٹو

 

آزاد کشمیر اسمبلی کی جن نشستوں پر تنازع ہے وہ ان کشمیریوں کیلئے رکھی گئی تھیں جو مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آئے۔

1947 اور 48 میں آزاد کشمیر سے کچھ ہندو بھی ہجرت کرکے بھارتی علاقے میں گئے تھے جو خود کو کشمیری ہندو کہلاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت نے ان کے لیے الگ نشستیں رکھیں اور یہ لوگ ووٹ کہاں اور کسے دیتے ہیں۔ جواب کافی حیران کن ہے اور اسی میں مستقبل کا منظر نامہ چھپا ہے۔

1947-48 میں بھارت کے زیر قبضہ علاقوں میں جانے والے ہندووں کی تعداد تقریباً 32 ہزار خاندان بتائی جاتی ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر جموں، کٹھوعہ، راجوری اور ادہم پور کے اضلاع میں آباد ہوئے۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے سے پہلے آزاد کشمیر اور مغربی پاکستان سے آنے والے ہندوؤں اور سکھوں کو جموں و کشمیر کے مقامی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق نہیں تھا خواہ وہ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے ہوں یا بلدیاتی انتخابات۔ حالانکہ یہ لوگ بھارت کی لوک سبھا کیلئے ووٹ دیتے تھے۔ کیونکہ بھارت انہیں اپنا شہری تسلیم کرتا تھا۔ کشمیر کا معاملہ الگ تھا۔ ریاست نے اپنی جدا گانہ حیثیت برقرار رکھی ہوئی تھی۔
مزید تفصیل کے لیے وڈیو دیکھیں۔