سراج الدین حقانی کی پاکستان کو مذاکرات کی پیشکش، دھمکی بھی دے ڈالی
اپنے ایمان اور افغان قوم کی وحدت کے ذریعے دنیا کو شکست دی- افغان وزیر داخلہ
افغان طالبان حکومت کے قائم مقام وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کو باضابطہ طور پر مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تمام تر مسائل کا واحد حل بات چیت اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے میں مضمر ہے۔
اپنے ایک اہم بیان میں سراج الدین حقانی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ افغان قوم نے کسی ٹیکنالوجی یا عسکری برتری کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ اپنے ایمان اور افغان قوم کی وحدت کے ذریعے دنیا کو شکست دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی اعتماد کی بحالی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں ہمسایہ ممالک کو باضابطہ روابط استوار کرنے ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق فروری 2026 سے پاکستان اور افغان طالبان کی انتظامیہ کے درمیان سرحدی اور سکیورٹی امور پر کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران اب تک متعدد بار عارضی جنگ بندی کے معاہدے ہوئے لیکن وہ برقرار نہ رہ سکے۔ اس دوران قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین سمیت کئی برادر و دوست ممالک کی جانب سے دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم تاحال کوئی مستقل اور حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
سراج الدین حقانی کا یہ تازہ بیان ایسے حساس وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور کابل کے مابین سفارتی سطح پر دوبارہ بات چیت کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں حالیہ دنوں فضائی حملے کیے ہیں۔