ایران جنگ سے نکلنے کے لیےصدارتی انتظامیہ اور امریکی فوج یک زبان

مسئلہ صرف تہران کی جوابی کارروائی نہیں، گولہ بارود کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں

August 11, 2026 · امت خاص

 

امریکی جرنیلوں سمیت صدارتی انتظامیہ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے۔ایران کی جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈو۔۔۔ ٹرمپ کو بتا دیا گیا۔

چھ ماہ سے جاری یہ جنگ اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی جرنیل بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بموں اور میزائلوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

امریکی جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل ڈین کین نےٹرمپ کے اہم مشیروں کوخبردار کیا ہے کہ فوجی آپشنز الٹا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔کیونکہ فضائی طاقت کی اپنی حدود ہیں۔ایران کی ڈرون اور میزائل تنصیبات کاور انفراسٹرکچر تباہ کیا جا سکتا ہے، لیکن کیا اس طرح تہران کو امریکی شرائط ماننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟امریکی جرنیلوں کو اس پر شک ہے۔اور مسئلہ صرف ایران کی جوابی کارروائی نہیں۔امریکی گولہ بارود کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
مزید تفصیل اس وڈیومیں۔