بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں آرہی ہیں،سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ نےبانی پی ٹی آئی کی صحت کےحوالے سےکہا کہ تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزراء، معاونین خصوصی اور مشیران کی جانب سے عوام سے براہ راست رابطے اور مسلسل دوروں کا آغاز قابل تحسین ہے۔بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں آرہی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عوامی دوروں سے صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کا براہ راست پتہ چلتا ہے، وزراء کے دوروں سے افسران کے عوام کے ساتھ رویے اور سروس ڈلیوری میں کوتاہیوں کا بھی علم ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے صوبائی محکمہ خزانہ کی بہترین کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود معیشت کو بہترین انداز میں سنبھالا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ 129 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں حکومت خیبرپختونخوا نے 150 ارب روپے حاصل کیے، رواں سال ریونیو کا ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ اراکین صرف اپنے کام پر توجہ دیں، حق و سچ، شفافیت اور کرپشن کے خلاف مؤقف پر آپ کے مخالفین بڑھیں گے، وزراء کو مخالفین کی باتوں کی بجائے اپنی کارکردگی اور صوبے کے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کردہ 5300 ارب روپے کی اتنی بڑی کرپشن پر کوئی آواز نہیں اٹھا رہا، عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹا گیا، خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کام عوام کو نظر آ رہے ہیں، ان کی رفتار مزید تیز ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے کہا کہ تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں، میڈیا پر چلنے والی خبروں سے پوری قوم میں تشویش پائی جا رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کو ناحق قید کیا گیا تو اس وقت ان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک تھی اور وہ سپر فٹ تھے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت جیل انتظامیہ اور وفاقی حکومت کی غفلت کی وجہ سے خراب ہوئی ہے، گزشتہ روز بانی کی بہنوں اور وکلا سے ملاقات کا دن تھا لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ تقریباً تین سال میں بانی نے صحت کو جواز بنا کر کبھی کوئی ریلیف نہیں مانگا۔ حکومت خیبرپختونخوا کا بانی سے ذاتی ڈاکٹرز، فیملی، وکلا اور دوستوں کی ملاقات اور رسائی دینے کا پرزور مطالبہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بانی کو اپنے ذاتی ڈاکٹرز، فیملی، وکلا اور دوستوں تک رسائی دینا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔