یورپ میں دہائیوں بعد مکمل سورج گرہن کا تاریخی منظر، دن میں اندھیرا چھا گیا

نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کے لیے ساحلوں، پہاڑیوں اور کھلے میدانوں میں لاکھوں افراد جمع ہوئے۔

August 13, 2026 · بام دنیا

لندن / میڈرڈ: یورپ اور اس کے گردونواح میں بدھ کے روز دہائیوں بعد پہلا مکمل سورج گرہن دیکھا گیا، جس نے دن کے وقت کئی ممالک میں اندھیرا پھیلا دیا۔ زمین، چاند اور سورج کے بالکل ایک ہی خط میں آ جانے کا یہ نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کے لیے ساحلوں، پہاڑیوں اور کھلے میدانوں میں لاکھوں افراد جمع ہوئے۔

تاریکی کے اس دلفریب اور سحر انگیز منظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے لوگوں نے قمری سائے کے مرکزی راستے میں واقع علاقوں اور ہوٹلوں میں بھاری قیمتیں ادا کر کے رہائش حاصل کی۔

سورج گرہن کے آخری مراحل میں قدرت کے کئی دلکش مناظر سامنے آئے،گرہن کے مکمل ہونے سے ٹھیک ایک منٹ قبل درجنوں کی تعداد میں ‘سی گلز’فضا میں بلند ہوئے اور چیختے چلاتے ہوئے اوپر چکر کاٹنے لگے، جو اچانک چھانے والی تاریکی پر پرندوں کی شدید سراسیمگی کا مظاہرہ تھا۔

گرہن سے قبل بادلوں کا ایک بڑا ٹکڑا سورج کے سامنے آ گیا تھا جس سے شائقین کی امیدیں دم توڑنے لگی تھیں، لیکن ‘ٹوٹلٹی’ کے بالکل آخری لحظات میں بادل ہٹ گئے اور کامل گرہن کا منظر صاف نظر آنے لگا۔

گرہن کے عروج پر چاند کے سیاہ ڈسک بن جانے کے بعد سورج کے بیرونی کنارے پر سرخی مائل چمکدار شعلے کو واضح طور پر دیکھا گیا۔

گرہن کہاں کہاں دیکھا گیا؟

یہ مکمل سورج گرہن زمین کے ایک مخصوص پٹی سے گزرتا ہوا نظر آیا۔

علاقہ / ملک
اسپین اور پرتگال مکمل  اسپین کے شمالی اور مشرقی علاقوں (بشمول بارسلونا کے قریب علاقوں، والنسیا اور زیراگوزا) میں سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل مکمل گرہن دیکھا گیا۔
آئس لینڈ و گرین لینڈ مکمل  آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک سمیت دیگر علاقوں میں دوپہر اور شام کے درمیان مکمل تاریکی چھا گئی۔
روس (شمالی خطہ) مکمل  سائبیریا اور آرکٹک کے کچھ علاقوں میں بھی ٹوٹلٹی کا منظر دیکھا گیا۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور آئرلینڈ میں 85% سے 95% تک جزوی گرہن دیکھا گیا۔
شمالی امریکہ جزوی  امریکہ کی شمالی ریاستوں، الاسکا اور کینیڈا کے کچھ حصوں میں سورج کا کچھ حصہ دھندلا نظر آیا۔

گرہن کہاں کہاں نظر نہیں آیا؟

یہ گرہن دنیا کے نصف سے زیادہ حصے میں بالکل نظر نہیں آیا۔ جنوبی ایشیائی ممالک (بشمول پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا) میں یہ گرہن بالکل نظر نہیں آیا کیونکہ ان علاقوں میں اس وقت رات کا وقت تھا اور سورج افق سے نیچے تھا۔

رات کا وقت ہونے کی وجہ سے یہ پاکستان میں قابلِ دید نہیں تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق رات 10:34 پر، عروج رات 12:12 پر اور اختتام رات 2:58 پر ہوا۔

 مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصوں، براعظم آسٹریلیا، انٹارکٹیکا اور جنوبی امریکہ کے بڑے حصوں میں بھی یہ گرہن دکھائی نہیں دیا۔

فلکیاتی ماہرین کے مطابق یورپ میں اگلا بڑا مکمل سورج گرہن 2 اگست 2027 کو ہوگا، جو جنوبی اسپین، جبل الطارق  اور شمالی افریقہ کے اوپر سے گزرے گا۔