جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی پر امریکا بھی برہم

واشنگٹن کو توقع ہے کہ اسرائیل امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا-امریکی محکمہ خارج

August 13, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی سے متعلق اسرائیلی وزیرِ دفاع کے بیان پر امریکا نے اپنے اتحادی ملک اسرائیل کو غیر معمولی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ اسرائیل امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا، جس کے تحت جنوبی لبنان کے بعض علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔

امریکی حکام نے لبنان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ خطے میں طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کے دورے کے دوران علاقے میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کو ضروری قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز علاقے میں موجود بعض گھروں کو مسمار کر رہی ہیں۔

دوسری جانب لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے گھروں کی منظم مسماری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض کیا ہے۔

امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت متعلقہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کی واپسی اور وہاں لبنانی فوج کی تعیناتی کا منصوبہ شامل ہے۔ معاہدے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔

جنوبی لبنان کی صورتحال پر امریکا کی جانب سے سامنے آنے والا تازہ مؤقف ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اسرائیل میں متوقع عام انتخابات سے قبل حکومتی وزرا کے بیانات اور سیاسی مؤقف میں بھی سختی دیکھنے میں آرہی ہے۔