پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب مشترکہ سیاسی اور فوجی میکنزم بنائیں گے، ترکیہ کا اعلان
تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور عسکری سربراہان پر مشتمل مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی ، وزارت دفاع ترکیہ
فائل فوٹو
انقرہ / اسلام آباد: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے کے تحت سیاسی اور فوجی شعبوں میں رابطوں اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ میکانزم (طریقہ کار) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترکیہ کی دفاعی وزارت کے مطابق، اس کا مقصد تینوں ملکوں کے مابین سیکیورٹی روابط کو مزید گہرا کرنا اور دفاعی صنعت کے شعبے میں شراکت داری کو فروخت دینا ہے۔
انقرہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترکیہ کی وزارت دفاع نے بتایا کہ اس نئے فریم ورک کے تحت تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور عسکری سربراہان پر مشتمل مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
ترجمان کے مطابق، معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی افواج کی مشترکہ عسکری مشقیں بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، جبکہ دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھی تیزی سے کام کیا جائے گا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے ایک بیان میں امید ظاہر کی کہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بنیں گے۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس کا دائرہ کار مزید پھیلے اور ایک دن ایسا وقت آئے جب خطے کے تمام ممالک اس سیکیورٹی امبریلا کے نیچے متحد ہو سکیں۔
اس سلسلے میں ترک وزیر خارجہ خاقان فدان نے بھی اشارہ دیا ہے کہ مصر کے اگلے مرحلے میں اس معاہدے میں شامل ہونے کی توقع ہے اور اس راستے میں صرف چند تکنیکی امور باقی رہ گئے ہیں۔
کویت، بحرین اور صومالیہ نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایران نے بھی مثبت اور محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقائی ممالک کے باہمی تعاون پر مبنی سیکیورٹی فریم ورک کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان: وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد تمام تر دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت کرنا نہیں ۔
یہ ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ’ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر اور بحیرہ احمر و باب المندب میں بحری آمدورفت میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس معاہدے کے ذریعے تینوں اہم مسلمان طاقتیں ایک اجتماعی سیکیورٹی فریم ورک کے تحت یکجا ہوئی ہیں۔