سپریم کورٹ ججز کی تنخواہ میں 4 لاکھ، ہائیکورٹ ججز کی تنخواہ میں ایک لاکھ 10 ہزار روپے اضافہ
تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق دسمبر 2025 سے ہو گا اور ججز کو اس مدت کے بقایا جات بھی ادا کیے جائیں گے ، سمری منظور
فائل فوٹو
اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے حکومت کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور دیگر الاؤنسز میں اضافے کی سمری منظور کر لی ہے۔
صدر کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کر دی گئی ہیں۔ حکومتی سمری کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق دسمبر 2025 سے ہو گا اور ججز کو اس مدت کے بقایا جات بھی ادا کیے جائیں گے۔
سمری کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں تقریباً چار لاکھ روپے ماہانہ اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی بنیادی تنخواہ 11 لاکھ روپے سے بڑھ کر 15 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ جبکہ چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے ججز کے جوڈیشل الاؤنس میں بھی تین لاکھ 39 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ الاؤنس 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے سے بڑھ کر 15 لاکھ روپے ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ججز کے میڈیکل الاؤنس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور اب انھیں اس مد میں ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے ملیں گے۔
صدر مملکت نے ہائیکورٹس کے ججز کی تنخواہوں میں بھی اضافے کی منظوری دی ہے۔ سمری کے مطابق ہائیکورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں ایک لاکھ 10 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی بنیادی تنخواہ 10 لاکھ 95 ہزار روپے سے بڑھ کر 12 لاکھ 5 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ 12 لاکھ 54 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
سمری میں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے لیے ایک نئی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس کے تحت جو جج کم از کم دو سال تک ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہوں، انھیں ریٹائرمنٹ یا سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کی صورت میں سرکاری گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہو گی۔