امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ نہیں ہوا:عباس عراقچی
اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمت میں جنگ کے خاتمے کی بات کی گئی تھی، جنگ بندی کی نہیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے تہران نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ایرانی میڈیا کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق عباس عراقچی نے بتایا کہ قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر ایران سے رابطے میں ہیں اور دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے، تاہم ان رابطوں کو مذاکرات کا آغاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمت میں جنگ کے خاتمے کی بات کی گئی تھی، جنگ بندی کی نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس مفاہمت کی خلاف ورزی کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہوئی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اسی وجہ سے 60 روزہ جنگ بندی جیسی کوئی مدت طے نہیں ہوئی تھی جس میں توسیع کی ضرورت پیش آتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ رابطے کے لیے ماضی میں استعمال ہونے والے ذرائع اب مؤثر نہیں رہے۔ تہران نئے رابطہ نظام کے لیے ایک عبوری راستہ تیار کر رہا ہے، جسے مستقبل میں مستقل طریقہ کار کی شکل دی جا سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ثالثی کے ذریعے پیغامات کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔