کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کر گئی،ہر30منٹ میں ایک شخص ہلاک

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا قابو پانے کی کوششوں پر غالب آنے لگی

August 15, 2026 · بام دنیا

فائل فوٹو

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے اور اب تک مصدقہ کیسز کی تعداد 4600 سے تجاوز کر چکی ہے، اموات کا عدد کم از کم 2184 تک پہنچ گیا ہے جو تمام متاثرین کا تقریباً 47 فیصد ہے۔

یہ اموات کی شرح گزشتہ دہائی کی وبا کے مقابلے میں تقریباً تین گنا تیزی سے سامنے آئی ہے اور اب ہر 30 منٹ میں ایک شخص ہلاک ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی امور کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وبا اسے روکنے کی کوششوں پر غالب آ رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے مرکزی ہنگامی ریلیف فنڈ سے اضافی تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا تاکہ وبا پر قابو پایا جا سکے۔

فلیچر کا کہنا ہے کہ مرض کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اور اسے روکنے کے اقدامات کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے وبا کے مرکز ایتوری صوبے میں مزید 20 اہلکار تعینات کیے ہیں تاہم مزید عملے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کل سے ایتوری اور دیگر صوبوں میں علاج مراکز تک تیار کھانا پہنچانا شروع کرے گا۔

ایتوری صوبہ وبا کا اصل مرکز ہے جہاں مجموعی 4660 سے زائد کیسز میں سے 3400 سے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ شمالی کیوو اور جنوبی کیوو بھی متاثر ہیں جہاں کانگو کی فوج اور روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 ملیشیا کے درمیان جاری تنازعے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مشرقی کانگو میں تقریباً 26 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ ایتوری میں رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ وبا اب تک کی دوسری بڑی اور تیز ترین پھیلنے والی ایبولا وبا بن چکی ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے فوری، بڑے پیمانے پر اور متفقہ اقدامات کی ضرورت ہے۔