آبنائے ہرمز ایرانی تھی،ہے اور رہے گی،کاظم غریب آبادی
آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ صرف ایران کی مرضی سے ہوگا۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی تھی، ایران کی ہے اور ایران کی ہی رہے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ صرف ایران کی مرضی سے ہوگا۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایرانی حکام نے امریکی صدر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ یہ خطہ ایران کے لیے انتہائی اہم ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس آبی راستے میں بحری آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔