پشاور میں پولیس مقابلہ، رنگ روڈ دوہرے قتل کا مبینہ ملزم نور الرحمن ہلاک

تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید تفتیشی طریقہ کار کی مدد سے دوہرے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کا سراغ لگایا گیا

August 18, 2026 · قومی

پشاور کے علاقے پشتخرہ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے رنگ روڈ پر مرد اور خاتون کے دوہرے قتل میں ملوث مبینہ ملزم نور الرحمن کو پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کردیا، جبکہ واقعے میں ملوث دو دیگر مبینہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ روز پشاور کے رنگ روڈ پر ایک مرد اور خاتون کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے قتل کی واردات کی تفتیش شروع کی اور مختلف شواہد کا جائزہ لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید تفتیشی طریقہ کار کی مدد سے دوہرے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کا سراغ لگایا گیا۔ ملزمان کی موجودگی سے متعلق معلومات ملنے پر پولیس نے پشتخرہ کے علاقے میں کارروائی کا فیصلہ کیا۔

پولیس کے مطابق تاج آباد قبرستان کے قریب کارروائی کے دوران پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے نتیجے میں مبینہ ملزم نور الرحمن ہلاک ہوگیا، جبکہ اس کے دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران دوہرے قتل کی واردات میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی موٹرکار، ایک پستول اور موبائل فونز بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔ برآمد ہونے والے سامان کو مزید تفتیش کا حصہ بنا دیا گیا ہے تاکہ واردات کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جاسکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا مبینہ ملزم نور الرحمن اس دوہرے قتل کے مقدمے میں اہم مشتبہ تھا، جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد واقعے کے محرکات اور واردات میں ان کے کردار سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

پولیس نے فرار ہونے والے دونوں مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ اور ٹارگٹڈ کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ حکام کے مطابق تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جارہا ہے اور دستیاب شواہد کی روشنی میں واقعے کی مزید کڑیاں جوڑی جارہی ہیں۔

پولیس کے مطابق رنگ روڈ پر پیش آنے والے دوہرے قتل اور بعد ازاں ہونے والے پولیس مقابلے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ برآمد شدہ گاڑی، پستول اور موبائل فونز کو فرانزک اور تفتیشی عمل میں شامل کیا جائے گا۔