ڈرون حملوں کا اثر، روس میں پٹرول کی قلت پھر شدت اختیار کرگئی

پٹرول کی قلت کے باعث بعض مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

August 18, 2026 · بام دنیا

روس میں پٹرول کی قلت ایک بار پھر سنگین ہوگئی ہے اور ملک کے کئی علاقوں میں پٹرول اسٹیشنز پر ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد فروخت پر پابندیاں دوبارہ سخت کردی گئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم 10 روسی علاقوں میں مقامی انتظامیہ نے موٹر ایندھن کی فروخت کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ماسکو کے علاقے میں بعض پٹرول اسٹیشنز پر پٹرول دستیاب نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ زیادہ تر اسٹیشنز پر ڈیزل کی فراہمی جاری رہی۔

پٹرول کی قلت کے باعث بعض مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

روس میں موجودہ ایندھن بحران نے رواں سال مئی میں شدت اختیار کرنا شروع کی تھی اور جولائی تک اس کے اثرات ملک کے بیشتر علاقوں تک پہنچ گئے تھے۔ حکام اور ماہرین کے مطابق بحران کی بڑی وجوہات میں روسی آئل ریفائنریوں پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت متاثر ہونا اور موسم کی وجہ سے ایندھن کی طلب میں اضافہ شامل ہے۔

صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے روسی حکومت نے مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی دستیابی بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ ان میں پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں، بعض انتظامی تقاضوں میں نرمی اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد شامل ہے۔

جولائی کے اختتام تک بعض علاقوں میں صورتحال بہتر ہوئی اور کئی مقامات پر ایندھن کی فروخت سے متعلق پابندیاں ختم یا کم کردی گئی تھیں، تاہم یہ بہتری زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

جولائی کے آخری دنوں اور اگست کے آغاز میں روسی آئل ریفائنریوں پر ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر کے بعد ایندھن کی پیداوار اور سپلائی ایک بار پھر متاثر ہونے لگی۔ نتیجتاً مختلف علاقوں میں پٹرول کی دستیابی کم ہوئی اور مقامی انتظامیہ کو فروخت محدود کرنے کے اقدامات دوبارہ کرنا پڑے۔

روسی حکومت کے مطابق ملک کے متعدد علاقوں میں پٹرول اسٹیشنز تک ایندھن پہنچانے میں مشکلات اب بھی موجود ہیں۔ حکام صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں سپلائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

جن علاقوں میں ایندھن کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے ان میں اورینبرگ، لیپیٹسک، ٹوور، کراسنودار، زابائیکالسکی، پریمورسکی، کراسنویارسک، اوریول، تووا اور خاکاسیا شامل ہیں۔

حکام کی کوشش ہے کہ مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی فراہمی بحال کی جائے اور قلت کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کیا جائے، تاہم ریفائنریوں پر مزید حملوں کی صورت میں روس کے ایندھن بحران میں دوبارہ شدت آنے کا خدشہ برقرار ہے۔