ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دیدیا ،نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر

ٹرمپ نے اس سے ایک روز قبل بھی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’’ایک زبردست خیال‘‘ ہے۔

August 18, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے نیا امریکی علاقہ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ پوسٹ کیا جس میں ایران اور عمان کے درمیان واقع اس اہم آبی گزرگاہ کے گرد دائرہ بنا کر اس پر’’ نیا امریکی علاقہ‘‘ تحریر کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس تصویر کے ساتھ کوئی کیپشن تحریر نہیں کیا تھا تاہم اس تصویر جس میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ لکھا گیا ہے کو شیئر کرنا ثابت کرتا ہے کہ امریکی صدر کے عزائم کیا ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے ایک روز قبل بھی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’’ایک زبردست خیال‘‘ ہے۔

گزشتہ ہفتے صحافیوں نے جب ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی بات سے کیا مراد لیتے ہیں تو امریکی صدر نے جواب دیا تھا کہ میرا مطلب ہے کہ ہم اسے کنٹرول کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو ایران کی بحری ناکہ بندی کنٹرول کرتا ہے اور انھیں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا خیال پسند ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کو بھی کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا آبنائے ہرمز کا ’’مالک‘‘ ہے تاہم ماہرین کے مطابق حقیقت اس سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی تقریباً 50 کلومیٹر چوڑی اہم آبی گزرگاہ ہے جس کے شمالی حصے میں ایران اور جنوبی جانب عمان واقع ہے۔ اس کے بعض حصے ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں آتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ ایران اور نہ ہی امریکا اس پوری آبی گزرگاہ پر مطلق قانونی ملکیت کا دعویٰ کرسکتا ہے جبکہ بین الاقوامی بحری قوانین کے تحت جہازوں کو گزرنے کے حقوق حاصل ہیں۔

سٹی، یونیورسٹی آف لندن کے پروفیسر اور میری ٹائم قانون کے ماہر جیسن نے بتایا کہ امریکی صدر کی جانب سے محض اعلان یا حکم کے ذریعے کسی علاقے کو امریکی سرزمین قرار دینا کافی نہیں ہوگا۔

ان کے بقول امریکی قانون کے تحت کسی نئے علاقے کو ملک کا حصہ بنانے کے لیے آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی علاقے کو یکطرفہ طور پر اپنے ساتھ ملانا اقوام متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہے۔

پروفیسر جیسن چواہ نے مزید بتایا کہ کسی علاقے یا سمندری حصے کو قانونی طور پر حاصل کرنے کے لیے متعلقہ ریاست کی رضامندی یا اس علاقے کی باقاعدہ منتقلی ضروری ہوگی۔