مہنگے داموں درآمد کی گئی چینی اب برآمد کی جا رہی ہے، مفتاح اسماعیل کا دعوی
ٹیکس چھوٹ دے کر بھی چینی مارکیٹ ریٹ سے اوپر تھی، زبردستی فروخت کی گئی، سابق وزیر خزانہ
شوگر مل سے چینی لادی جا رہی ہے (فائل)
سابق وزیر خزانہ اور نامور ماہرِ معیشت مفتاح اسماعیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پاکستان کی شوگر (چینی) پالیسی کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا اور تفصیلی بیان جاری کیا ہے. ان کا دعوی ہے کہ مہنگے داموں چینی درآمد کرکے زبردستی مارکیٹ میں بیچی گئی اور اس سے بھی کام نہ چلا تو اب وہی چینی برآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے چینی پالیسی کے 9 اہم نکات بیان کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال 7 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں ملک میں چینی کی قیمت میں 50 روپے فی کلو تک کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کو 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حکم دیا جبکہ نجی شعبے کو اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
ٹی سی پی (TCP) نے عالمی مارکیٹ کے مروجہ نرخوں سے 40 ڈالر فی ٹن تک زیادہ قیمت پر چینی خریدی۔
ٹی سی پی کی درآمد کردہ چینی کو سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سے بھی استثنیٰ دیا گیا، لیکن اس کے باوجود یہ چینی پاکستان کی مقامی مارکیٹ کے نرخوں سے مہنگی پڑی۔
حکومتی ٹیم (جس میں ٹی سی پی، آئی بی اور ایف بی آر کے افسران شامل تھے) نے یہ مہنگی چینی زبردستی مختلف صنعتوں، چین اسٹورز اور بروکرز کو مقامی مارکیٹ سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کی۔
بڑے خریداروں کو حکومتی چینی خریدنے پر مجبور کرنے کے لیے شوگر ملز کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ ٹی سی پی کے ممکنہ گاہکوں کو چینی فروخت نہ کریں۔
ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود ٹی سی پی اپنا پورا اسٹاک فروخت کرنے میں ناکام رہی، اور اب وہ اس چینی کو عالمی منڈی میں دوبارہ برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔