ترک محقق کا حضرت نوحؑ کی کشتی دریافت کرنے کا دعویٰ
دروپینار کا یہ مقام مشرقی ترکی میں واقع ہے اور اس کی ظاہری ساخت کو بعض افراد حضرت نوحؑ کی کشتی سے منسوب کرتے ہیں
فوٹو گوگل
ترکی میں ایک محقق نے مشرقی ترکی کے علاقے دروپینار میں حضرت نوحؑ کی کشتی کے ممکنہ آثار ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس مقام پر ایک عرصے سے کشتی نما ساخت موجود ہونے کے باعث ماہرین اور مذہبی حلقوں میں دلچسپی پائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ترک نژاد امریکی محقق ڈاکٹر خسرو بختیار نے اپنے تیار کردہ ریڈار کے ذریعے دروپینار کے علاقے میں زیرِ زمین موجود ساخت کا جائزہ لیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریڈار سے زمین کے نیچے ایک ایسی ساخت کی نشاندہی ہوئی جو کشتی نما دکھائی دیتی ہے۔
دروپینار کا یہ مقام مشرقی ترکی میں واقع ہے اور اس کی ظاہری ساخت کو بعض افراد حضرت نوحؑ کی کشتی سے منسوب کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین ارضیات کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ زمین پر موجود یہ کشتی نما ساخت قدرتی جغرافیائی عمل کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔
محقق اور ان کی ٹیم اب مزید تحقیق اور ممکنہ کھدائی کے ذریعے زیرِ زمین ساخت کی حقیقت جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اگر مزید تحقیقات سے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ ایک غیر معمولی دریافت تصور کی جائے گی۔
قرآن مجید میں حضرت نوحؑ کی کشتی کے ٹھہرنے کے مقام کے لیے ’’الجودی‘‘ کا ذکر ملتا ہے، تاہم اس مقام کی قطعی جغرافیائی شناخت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ترکی کے بعض مقامی علاقوں میں پہاڑ کی ایک چوٹی کو بھی الجودی کہا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حضرت نوحؑ کی کشتی دریافت ہونے کا دعویٰ ابھی سائنسی طور پر حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا، اس لیے اس حوالے سے مزید تحقیق اور ماہرین کی آزادانہ جانچ کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔