ایک ہی فلم بار بار چل رہی ہے، نئی امریکی پابندیوں پر ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل
امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کا متوقع پیکیج کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے پہلے سے اختیار کی جانے والی پالیسی کا ہی ایک اور مرحلہ ہے
فائل فوٹو
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کے ممکنہ اعلان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے پرانی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کا متوقع پیکیج کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے پہلے سے اختیار کی جانے والی پالیسی کا ہی ایک اور مرحلہ ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’’ایک ہی فلم بار بار چلنے‘‘ سے تشبیہ دی۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دباؤ اور سخت اقدامات کا طریقہ کار سابق امریکی حکومتوں کی پالیسی سے بنیادی طور پر مختلف نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں بھی امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے، اس لیے نئی پابندیوں کو تہران کسی غیر معمولی یا نئی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھتا۔
عباس عراقچی کے بیان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اگر واشنگٹن نئی پابندیوں کا اعلان کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی اختلافات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔