آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کا ایرانی انتباہ

ایسے جہاز جو آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت سے متعلق ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور بعد میں دوبارہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔

August 24, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی قوانین اور سمندری ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو جرمانے، حراست یا ضبطی جیسی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے ان بحری جہازوں کی نگرانی اور جانچ کا دائرہ بھی بڑھا دیا ہے جن پر ایرانی قوانین کی خلاف ورزی کا شبہ یا الزام ہے۔ ایران کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز سے متعلق امریکا کے ساتھ مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسے جہاز جو آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت سے متعلق ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور بعد میں دوبارہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ایران کی خلیج فارس آبنائے اتھارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں شپنگ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے جہازوں کے ریکارڈ کا ازسرنو جائزہ لیں۔

اتھارٹی کے مطابق خلیجی ممالک سے یا ان کی جانب سامان منتقل کرنے والی کمپنیوں کو کسی نئے بحری معاہدے یا چارٹر سے قبل یہ یقینی بنانا چاہیے کہ متعلقہ جہاز ایرانی قوانین کی خلاف ورزیوں کی فہرست میں شامل نہ ہو۔

ایرانی حکام کے مطابق نگرانی کا دائرہ صرف براہِ راست متعلقہ جہازوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان بحری جہازوں اور کمپنیوں کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا جو پہلے سے فہرست میں شامل جہازوں کے ساتھ کاروباری یا آپریشنل روابط رکھتے ہیں۔

ان سرگرمیوں میں جہازوں کی منتقلی، ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں سامان منتقل کرنا اور دیگر متعلقہ بحری آپریشنز بھی شامل ہیں۔