عمران خان کو نجی اسپتال میں علاج کی سہولت ملنے پر دیگر قیدی عدالت پہنچ گئے
سپریم کورٹ کے فیصلے کو بنیاد بنا کر اڈیالہ جیل کے بیمار قیدیوں نے بھی نجی اسپتالوں میں علاج کی استدعا کر دی
اڈیالہ جیل (فائل فوٹو)
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو نجی اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کیے جانے کے بعد اڈیالہ جیل کے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کا ریلیف حاصل کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم نامے نے ملک بھر کی جیلوں میں قید دیگر افراد کے لیے بھی نئی عدالتی درخواستوں کا دروازہ کھول دیا ہے، جس کے تحت اب حوالاتیوں اور قیدیوں نے بھی عدالت عالیہ کے اسی فیصلے کو بنیادی جواز بنا کر اپنے علاج کے لیے خصوصی ریلیف مانگنا شروع کر دیا ہے۔
عدالت میں دائر کی جانے والی نئی درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری اور قیدی برابر ہیں، اس لیے اگر ایک قیدی کے لیے طبی بنیادوں پر خصوصی انتظامات کیے جا سکتے ہیں تو دیگر بیمار قیدیوں کے علاج کے لیے بھی بالکل یہی ایک جیسا اصول اور معیار اپنانا ہوگا۔ جیل حکام اور متعلقہ اداروں کو فریق بناتے ہوئے دائر ان درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی طرح دیگر سنگین امراض میں مبتلا قیدیوں کا معائنہ بھی آزاد ماہرین سے کرایا جائے۔
پہلا درخواست گزار اویس الطاف ہے جو دفعہ چار سو اٹھاسی ایف کے ایک مقدمے کے سلسلے میں اڈیالہ جیل میں زیرِ سماعت قیدی کے طور پر موجود ہے۔ اویس الطاف کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ریمیٹک فیور، جوڑوں کی شدید سوزش، کمر اور جوڑوں کے درد، جسم کے مختلف حصوں کے سن ہونے اور بڑھے ہوئے سوزشی ٹیسٹوں سمیت کئی پیچیدہ طبی مسائل کا شکار ہیں۔ اس درخواست میں عدالت سے باضابطہ استدعا کی گئی ہے کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال اور قائداعظم انٹرنیشنل اسپتال کے ماہر ترین ڈاکٹروں پر مشتمل ایک آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جو ان کے امراض کا بغور جائزہ لے سکے۔ درخواست میں یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ موصوف کو علاج کی غرض سے نجی اسپتال منتقل کیا جائے جہاں ان کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ، ادویات کا بندوبست، ممکنہ آپریشن اور باقاعدہ فالو اپ علاج کی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جا سکیں۔
دوسری جانب اسی نوعیت کی ایک اور درخواست الیاس خان نامی قیدی کی طرف سے دائر کی گئی ہے جو قتل اور اقدامِ قتل کے سنگین مقدمات میں اڈیالہ جیل میں عدالتی ریمانڈ پر موجود ہے۔ الیاس خان کے وکلا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ان کا مؤکل ہیموفیلیا اے، معدے سے مسلسل خون بہنے اور خون کی شدید کمی جیسے جان لیوا مسائل کی وجہ سے انتہائی خطرناک طبی شاک کی حالت کا شکار ہو چکا ہے اور جیل کے اندر اس کا مناسب علاج ممکن نہیں۔ دائر کردہ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ خون اور معدے کے امراض کے ماہر سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل بورڈ بنایا جائے جو فوری طور پر ان کی صحت کا تفصیلی معائنہ کرے۔ الیاس خان کی طرف سے بھی یہ اپیل کی گئی ہے کہ انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل، قائداعظم انٹرنیشنل یا کسی بھی دوسری جدید طبی سہولتوں سے آراستہ نجی اسپتال میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کی جان کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے اور قانون کے مطابق انہیں بھی علاج معالجے کی مساوی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔