بٹ کوائن تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران بٹ کوائن تقریباً 80 ہزار 323 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ دورانِ کاروبار اس کی قیمت 81 ہزار 237 ڈالر تک بھی پہنچ گئی

August 25, 2026 · کامرس
فائل فوٹو

فائل فوٹو

عالمی سطح پر سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے اور اس کی قدر 80 ہزار ڈالر کی سطح عبور کرتے ہوئے تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

رپورٹس کے مطابق ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران بٹ کوائن تقریباً 80 ہزار 323 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ دورانِ کاروبار اس کی قیمت 81 ہزار 237 ڈالر تک بھی پہنچ گئی۔ یہ مئی کے وسط کے بعد بٹ کوائن کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

اگست کے دوران بٹ کوائن کی قیمت میں اب تک تقریباً 28 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث یہ نومبر 2024 کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے نمایاں ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی حالیہ تیزی کے پیچھے امریکی ڈالر کی کمزوری، امریکی مالیاتی پالیسی سے متعلق توقعات اور کرپٹو کرنسی کے لیے ممکنہ واضح قانونی فریم ورک جیسے عوامل اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس پر کرپٹو کرنسی کے شعبے کے لیے واضح قانونی تعریفیں متعین کرنے سے متعلق قانون منظور کرنے پر زور دینے کے بعد بھی بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے طویل مدتی بانڈز کی خریداری سے متعلق اقدامات نے بھی مالیاتی مارکیٹ میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی کے خدشات کے باعث بعض سرمایہ کار سونے اور ڈیجیٹل اثاثوں کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر کی سطح سے اوپر اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو مستقبل میں 95 ہزار ڈالر اور اس کے بعد ایک لاکھ ڈالر کی سطح کی جانب پیش رفت کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کے باعث حتمی سمت کا تعین مارکیٹ کے آئندہ رجحان سے ہوگا۔