ملکہ ترنم نورجہاں نےمہدی حسن سے پرویزمہدی کو چھین لیا تھا

بیس برس تک شہنشاہ غزل کی شاگردی کے بعد شناخت ایک غیر ملکی دورے نے تبدیل کردی

August 29, 2026 · کائنات کے رنگ
تصویر: سوشل میڈیا

تصویر: سوشل میڈیا

محمد نواز طاہر

قیام پاکستان سے قبل امرتسر سے لاہور منتقل ہونے والے خاندان میں،چودہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس کو موسیقی کا ستارہ طلوع ہوا، جو بعد میں اپنے فن سے ماہتاب کی طرح چمکا ، اس کا نام بھی چمکتے ستارے کے معنی سے پرویز اختر رکھا گیا جس نے پرویز مہدی کے نام سے شہرت پائی ۔

لوک گائیکی کے ماحول میں آنکھ کھولنے والے پرویز اختر نے لوگ گیت سے آگے بڑھ کر شہرہ آفاق غزلیں اور فلمی گیت گائے ۔ لوک گائیکی کے انگ میں اپنے وقت کی مقبول گلوکارہ ریشماں کے ساتھ’’ گوریئے میں جانا پردیس ‘‘گایا تو یہ یہ گانا نہ صرف ریڈیو پاکستان کی پروڈکشن اوربعد میں پاکستان ٹیلیویژن پر نشر ہونے والے مقبول نغموں میں شامل ہوا بلکہ پرویز مہدی برصغیر میں ہر طرف گنگنایا جانے لگا ۔ یہاں تک پہنچنے میں پرویز مہدی کی جہد ، استاد کی خدمت ریاض اور گلوکار والدکی دعاؤں کے اثر لانے میں طویل اور صبر آزما سفر ہے۔

گلوکار بشیر حسین راہی والدینم اور بھائیوں سمیت امرتسر کے نواحی گاؤں ”گھمن “ سے قیام پاکستان سے پہلے ہی لاہور منتقل ہوچکے تھے ، اور لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں رہائش اختیار کی تھی ، تھیٹر اور ریڈیو پر بشیر حسین راہی یک معروف نام تھا ۔ اسی گڑھی شاہو میں پرویز کی پیدائش ہوئی ۔

فسادات کے بعد ماحول بہتر ہوا تو بشیر حسین راہی خاندان مغلپورہ کے علاقے رامگڑھ موجودہ مجاہد آباد میں رہنے لگا پھر کمہار پورہ موجودہ غازی آباد منتقل ہو گیا جہاں کئی دیگر عزیزو اقارب رہائش پذیر تھے۔ تب غازی آباد میں کوئی اسکول نہیں تھا اور دیگر بچوں کے ساتھ پرویز اختر بھی صدر بازار لاہور کینٹ کے اسکول میں جایا کرتے تھے،نعت ِرسولِ مقبول پڑھتے ، سووزو ساز نے پختگی پکڑی۔

ا ن کا دل کتابوں میں لکھے الفاظ کے سُر تو سمھنے لگا تھا معنی شائد نہیں سمجھتا تھا اور نہ اس میں دل لگتا تھا جس کی وجہ سے بستہ اٹھانے والے ہاتھوں میں ہارمونیم آگیا،گلوکار باپ نے حوصلہ افزئی کی ، ابتداءمیں ہی ریڈیو پاکستان کا فنکارانہ ماحول اور وہاں آنے والی موسیقی کی شخصیات سے میل ملاپ نے کمسن ذہن میں پختگی پیدا کی۔

باپ کی گود سے شہنشاہِ غزل مہدی حسن کی گود، قربت، شفقت ، ریاضت نے کندن بنادیا۔ اس کاپہلا شاہکار ریڈیوپاکستان سے ریشماں کے ساتھ ” گوریئے میں جانا پردیس ‘ نشر ہوا تو وہ بشیرحسین راہی کیلئے عیدا ور مہدی حسن کیلئے یومِ فخر تھا۔

مہدی حسن کے شاگرد ی اختیار کرنے پر خاندان میں تناؤ پیدا ہوگیا ، یہ بھی فلمی انداز میں پستول کے غیر ستعمال کا واقعہ ہے۔ جب بشیر حسین راہی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو مہدی حسن کی شاگردی میں ڈال دیا ہے توخاندان میں شدیدردِ عمل کا اظہار کیا گیا یہاں تک ایک بھائی نے پستول نکال لیا۔ بشیر حسن راہی نے ایک سے دو سرےاور دو سرے سے تیسرے کوٹھے پھلانگتے ہوئے جان بچائی۔

خاندان کا اعتراض یہ تھا کہ نعت پڑھنے والے بچے کو مہدی حسن کے پاس کس کام کیلئے شاگرد بنادیا ؟ پیجی خاندان کا پہلا بیٹا تھایہ خاندان میں پیجی کی تعلیم جاری رکھنے اور نعت رسول مقبول پڑھنے والے بچے کو گانے بجانے سے دور رکھنے کی جنگ تھی۔ خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے علاقے کے معروف شخص’بسا گجر‘ کی مداخلت سے سُر جیت گئے ، اس جیت میں پیجی کی والدہ دادی اور تائی کے کردار سب سے زیادہ نمایاں بتایا جاتا ہے ۔

پرویز کو مہدی حسن سے ملکہ ترنم نوجہاں نے چھین لیا تھا۔خاندانی ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ ملکہ ترنم خود پرویز کی گائکی پسند اورصلہ افزائی کرتی تھیں ، اس وقت پرویز کو اپنے استاد مہدی حسن کی خدمت کرتے اور فن سیکھتے بیس سال ہوچکے تھے ، ملکہ ترنم نے مہدی حسن کو اپنے مخصوص کہا کہ اب اسے آزاد کرو ، اور مکمل طر پر گانے کی اجازت دو ۔

لندن کے ایک ثقافتی دورے میں ملکہ ترنم نور جہاں پرویز اختر کو ساتھ لے گئیں ۔ اس دورے سے پرویز اختر کی شناخت تبدیل ہوئی ۔ روانہ ہوتے ہوئے پاسپوٹ پر در ج نام پرویز اختر تھا لیکن جب دورہ خٰتم ہواتو وپس پرویز اختر نہیںلوٹا، وہ پرویز مہدی بن چکا تھا ، عمدہ پرفارمنس پر ان کو استاد مہدی حسن نے اپنا نام دیدیا تھا ، تب سے پرویز اختر تاریخ میںگم اور پرویز مہدی مقبول ہوگئے۔