سندھ حکومت نے گل پلازہ سانحے کی 78 صفحات پر مشتمل جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کردی

کراچی کے معروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے اندوہناک سانحے کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاری کر دی گئی۔

August 29, 2026 · قومی

سندھ حکومت نے کراچی کے معروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے اندوہناک سانحے پر کی جانے والی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی۔ سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ 78 صفحات پر مشتمل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افسوسناک واقعہ 17 جنوری 2026 کو پیش آیا جس میں 72 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے 4 فروری 2026 کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

رپورٹ کے دیباچے میں کمیشن کی سربراہی کرنے والے جسٹس فیصل کا معنی خیز شعر بھی شامل کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں۔ 78 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں سانحے کی ذمہ داری صوبائی حکومت یا کسی ادارے پر نہیں ڈالی گئی تاہم مجموعی طور پر خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آتشزدگی کی اطلاع میں تاخیر، راستوں کی بندش، پانی کی قلت، بجلی بند ہونے اور مارکیٹ میں فائر سیفٹی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے جانی نقصانات ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ کو فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی اور خطرناک عمارت ہونے کے باوجود تجارتی مقصد کے لیے مسلسل استعمال کیا گیا جبکہ 2024 اور 2025 میں سول ڈیفنس نے فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی اور آتش گیر سامان کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ آتشزدگی کے بعد بجلی بند اور اندھیرا ہونے کی وجہ سے لوگوں کو راستے نظر نہیں آئے جس کی وجہ سے جانوں کا ضیاع ہوا۔ آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کو تاخیر سے اطلاع دی گئی جبکہ ساؤنڈ سسٹم موجود ہونے کے باوجود اسے استعمال نہیں کیا گیا۔ کمیشن نے رپورٹ میں لکھا کہ قانونی طور پر گل پلازہ میں 1102 دکانوں کی گنجائش تھی جبکہ حقیقت میں وہاں 1153 دکانیں بنائی گئیں اور ان میں سے بیشتر میں بڑی مقدار میں آتش گیر سامان موجود تھا۔

کمیشن نے رپورٹ میں فائر بریگیڈ کے بروقت ایکشن نہ ہونے اور پانی کی قلت کی نشاندہی کی اور لکھا کہ اہم آلات بروقت نہ ہونے کی وجہ سے بھی صورت حال خوفناک ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آتشزدگی کے 35 سے 40 منٹ بعد آگ بجھانے کا عمل شروع ہوا۔ رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 سمیت دیگر فلاحی اداروں کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ انہوں نے مؤثر انداز میں بروقت اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ کمیشن کے مطابق گل پلازہ میں لوگ صرف آگ سے نہیں بلکہ تاخیر، اندھیرے، بند راستوں اور دیگر رکاوٹوں، حفاظتی انتظامات نہ ہونے، اداروں کی غیر ذمہ داری اور بروقت ریسکیو نہ ہونے کی وجہ سے جانوں سے گئے۔