کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا

کراچی کے نجی اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد معاملہ حل ہوگیا۔

August 29, 2026 · قومی
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا

کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا

کراچی کے ایک نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے حوالے سے پیش آنے والے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا ہے۔ اسپتال میں بچوں کی پیدائش اور اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے سامنے آنے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور انتظامیہ نے اس معاملے پر جامع کارروائی کرتے ہوئے تمام غلط فہمیوں کو دور کر دیا ہے۔

خاتون نے پولیس کو دیے گئے بیان میں سچ بتاتے ہوئے کہا کہ حاملہ نہیں تھی میں نے جعلی الٹرا ساؤنڈ بنوایا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی 2024 میں شادی ہوئی اور مس کیرج ہوگیا تھا جس کے بعد خاتون پریشر میں تھی اور خود کو حاملہ ظاہر کیا۔ خاتون اسپتال جاتی، الٹرا ساؤنڈ کرواتی لیکن کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھاتی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق ڈاکٹر اور عملے کی سنگین غفلت ظاہر ہوئی ہے، اسپتال میں خاتون کا بغیر ٹیسٹ آپریشن کرنا سنگین غفلت ہے، فیملی کی درخواست پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

تفتیشی حکام کے مطابق طبی معائنے اور ایم ایل او رپورٹ میں خاتون کا حاملہ ہونا ثابت نہیں ہوا، خاتون کو آپریشن تھیٹر منتقل کرنے سے قبل اسپتال عملے نے باقاعدہ طبی معائنہ نہیں کیا۔اسپتال عملے نے موبائل فون پر موجود الٹرا ساؤنڈ رپورٹ دیکھی، تحقیقات کے مطابق موبائل فون پر موجود رپورٹ غیرمستند پائی گئی، خاتون کے شوہر کی اسپتال کے خلاف درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، طبی رپورٹس، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر ریکارڈ کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا ہے۔ اس سے قبل پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ ایم ایل او اور سرکاری ڈاکٹر نے میڈیکل رپورٹ پیر کو دینے کا کہا ہے، جبکہ آج سرکاری میڈیکل ٹیم سے رپورٹ دوبارہ طلب کی جائے گی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ سے ڈاکٹر کا مؤقف درست یا غلط ہونے کا تعین ہوسکے گا۔پولیس نے واقعے سے متعلق ڈاکٹر اور اسپتال کے عملے کے بیانات بھی قلمبند کرلیے ہیں، ڈاکٹر نے پولیس کو دیے گئے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ آپریشن کے دوران خاتون کے پیٹ میں بچہ موجود نہیں تھا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ خاتون ایمرجنسی میں آئی تھیں اور اپنا مستقل علاج کسی دوسرے اسپتال سے کروا رہی تھیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر خاتون حاملہ نہیں تھیں تو ان کا آپریشن کیسے کیا گیا؟ اور آپریشن سے قبل ایسے ٹیسٹ کیوں نہیں کیے گئے جن سے حمل نہ ہونے کا معلوم ہوسکتا تھا۔ ٹیم نے خاتون کے کیے گئے تمام ٹیسٹوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اگر خاتون حاملہ نہیں تھیں تو بھی اسپتال، ڈاکٹر اور متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ کراچی کے نجی اسپتال میں گزشتہ روز بچے کی پیدائش کا معاملے پر تنازع ہوا تھا، خاتون کے اہلخانہ کا موقف تھا کہ بچہ اسپتال انتظامیہ کی غفلت سے غائب ہوا جبکہ عملے کا کہنا تھا کہ خاتون حاملہ تھی ہی نہیں۔