ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ، بجلی بندش کا دورانیہ 16 گھنٹے ہوگیا

آر ایل این جی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار میں تقریباً 3 ہزار 600 میگاواٹ کمی واقع ہوئی ہے۔

August 30, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: ملک بھر میں شدید گرمی اور حبس کے دوران بجلی کی بندش میں اضافہ ہوگیا ہے اور مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 16 گھنٹے تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق بجلی کی کمی کے باعث جنوبی پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے تک بجلی کی بندش کی جارہی ہے، جبکہ بڑے شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تقریباً 6 گھنٹے تک بتایا جارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں بجلی کی بندش 12 گھنٹے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بجلی چوری اور زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ رات کے اوقات میں بھی بجلی کی بندش زیادہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حکام کے مطابق بجلی کی صورتحال میں بہتری کا انحصار آر ایل این جی کارگوز کی بروقت دستیابی پر ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق آر ایل این جی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار میں تقریباً 3 ہزار 600 میگاواٹ کمی واقع ہوئی ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق منگلا ہائیڈرو پاور منصوبے سے بجلی کی پیداوار میں بھی تقریباً 195 میگاواٹ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ آر ایل این جی کی دستیابی کے بعد بجلی کی پیداوار میں بہتری آئے گی اور سپلائی کی صورتحال بہتر ہوسکے گی۔

دوسری جانب واپڈا کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 82 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 19 ہزار 700 کیوسک جبکہ اخراج 7 ہزار 400 کیوسک ہے۔
چشمہ بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ 98 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 80 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 72 ہزار 100 اور اخراج 50 ہزار کیوسک ہے۔

نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج 22 ہزار 400 کیوسک بتایا گیا ہے۔

واپڈا کے مطابق تربیلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1550 فٹ اور ذخیرہ 55 لاکھ 80 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1219.30 فٹ جبکہ ذخیرہ 55 لاکھ 34 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔

چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ اور ذخیرہ 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ تینوں بڑے ریزروائرز میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک کروڑ 13 لاکھ 99 ہزار ایکڑ فٹ بتایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بجلی کی پیداوار، پانی کی دستیابی اور ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جارہا ہے، جبکہ آر ایل این جی کی دستیابی کے بعد بجلی کی فراہمی میں بہتری کی توقع ہے۔