گوجرانوالہ میں ٹک ٹاکر بہنوں کا جھگڑا، بڑی نے چھوٹی کو جان سے مار دیا

فالوورز چوری کرنے کا الزام لگا کر چھری سے وار، گھر والے دیکھتے رہ گئے، باپ کا قاتلہ بیٹی سے اظہار لاتعلقی

September 1, 2026 · چشم حیرت
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں دو بہنوں کے درمیان مبینہ طور پر ٹک ٹاک کے ویوز سے شروع ہونے والے معمولی جھگڑے کا اختتام ایک بہن کے قتل پر ہوا ہے۔ قاتلہ بیٹی سے باپ سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ معاشی حالات بہتر کرنے کیلئے گھر والوں نے ٹک ٹاک کی اجازت دی تھی

لدھے والا وڑائچ پولیس نے لڑکیوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے 15 سالہ زوبیہ مناہل کے قتل کے الزام میں 18 سالہ بڑی بہن کو گرفتار کر لیا ہے۔

لدھے والا وڑائچ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او محمد افضل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزمہ سے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا ہے۔ تھانہ لدھے والا وڑائچ میں درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں عبدالشکور خان مدعی ہیں، جو ملزمہ اور مقتولہ دونوں کے والد ہیں۔

مدعی کے مطابق وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈرائیور ہیں اور ان کی 6 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ان کے گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے اور سب اہل خانہ صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک چھت سے شور کی آواز آئی۔ جب اہل خانہ چھت پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ دونوں بہنیں آپس میں پیسوں کے لین دین پر جھگڑا کر رہی تھیں۔ اس دوران بڑی بیٹی نے باورچی خانے میں پڑی ہوئی چھری اٹھائی اور زوبیہ کو ماری جو اسے کمر پر لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہو کر گر پڑی اور خون بہنے لگا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ہم سب اہل خانہ نے زوبیہ کو ابتدائی طبی مدد دینے کی کافی کوشش کی لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے زوبیہ مناہل فوت ہو گئی۔ مدعی کا کہنا ہے کہ ان کی بڑی بیٹی نے اپنی چھوٹی بہن زوبیہ مناہل کو ناحق قتل کر کے سخت زیادتی کی ہے۔

پولیس کی جانب سے مرتب کی گئی ابتدائی رپورٹ اس واقعے کے محرکات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ رپورٹ ایس ایچ او محمد افضل نے پولیس کے اعلی افسران کو بھجوائی ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ دونوں بہنیں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنایا کرتی تھیں اور ان دونوں کے درمیان جان لیوا جھگڑے کی بنیاد بھی یہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنا۔ رپورٹ کے مطابق اس جھگڑے کے دوران ملزمہ نے اپنی ہمشیرہ زوبیہ مناہل عرف عیشہ کو تیز دھار آلے سے کمر پر وار کر کے اسے قتل کر دیا۔

ایس ایچ او محمد افضل نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے زیر حراست ملزمہ کا ابتدائی بیان قلمبند کیا ہے، جس کے مطابق مقتولہ کے فالوورز زیادہ تھے جبکہ ملزمہ کے فالوورز کم تھے۔ ملزمہ کا الزام تھا کہ تم میرے فالوورز چوری کرتی ہو، جس وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہوا اور بات بڑھ گئی۔ تاہم ملزمہ کے رشتے دار غلام رسول کہتے ہیں کہ دونوں بہنوں نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز اس لیے بنانا شروع کی تھیں تاکہ وہ معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں۔ دونوں بچیاں انتہائی تابعدار اور والدین کی فرمانبردار تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں، اسی لیے اکثر فوڈ وی لاگنگ کرتی اور مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مصروف رہتیں۔

قتل کے بعد باپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بڑی بیٹی کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جس نے میرے ہنستے بستے گھر کو برباد کردیا میرا اب اس کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں رہا۔‘