خلیجی ممالک میں پاکستانی انڈوں کی برآمد پر پابندی کا انکشاف، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

قطر، کویت اور عمان میں پاکستانی انڈے منفی فہرست میں شامل ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس

September 1, 2026 · قومی
خلیجی ممالک میں پاکستانی انڈوں کی برآمد پر پابندی کا انکشاف، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

خلیجی ممالک میں پاکستانی انڈوں کی برآمد پر پابندی کا انکشاف، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کا اجلاس سید حسین طارق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پولٹری صنعت نے انکشاف کیا ہے کہ قطر، کویت اور عمان سمیت بعض خلیجی ممالک کی منفی فہرست میں پاکستانی انڈے شامل ہیں، جس کی وجہ سے برآمدات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری قومی غذائی تحفظ عامر علی احمد نے کمیٹی کو لائیو اسٹاک کے شعبے اور گوشت کی برآمد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ لائیو اسٹاک کا مجموعی ملکی پیداوار میں حصہ 15 فیصد جبکہ زراعت کے شعبے میں اس کا حصہ 62 فیصد ہے۔ پاکستان سے گوشت کی برآمد کے لیے 29 ہزار فعال اور منظور شدہ ادارے موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گوشت کی برآمد کے لیے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں 17 جبکہ ایران میں 10 ادارے منظور شدہ ہیں۔ قطر اور عمان سمیت دیگر ممالک میں گوشت کی برآمد کے لیے منظوری کا عمل اس وقت جاری ہے۔

سیکریٹری قومی غذائی تحفظ نے انکشاف کیا کہ مویشیوں میں پھیلنے والی منہ کھر کی بیماری لائیو اسٹاک کی برآمدی صلاحیت کو پوری طرح استعمال کرنے میں سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، اور اس بیماری پر قابو پانے کے لیے عالمی معیار کے مطابق فوری اقدامات اٹھانا انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں سے گوشت برآمد کرنے کی صورت میں اس کی قیمت اور مسابقت بری طرح متاثر ہوتی ہے جبکہ منہ کھر کی بیماری کی وجوہات کی بنا پر گوشت کو ہڈی کے بغیر برآمد کرنا پڑتا ہے، جس سے کاروباری اخراجات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری کے تدارک کے لیے 2025 میں ایک اہم منصوبہ منظور کیا گیا تھا جس پر کام باقاعدہ شروع ہو چکا ہے، اور اس منصوبے کے حوالے سے صوبوں اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اجلاس میں پولٹری صنعت کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے اور حکومتی ٹیکسوں کی وجہ سے مرغی کی پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ پولٹری صنعت کے نمائندوں کے مطابق متحدہ عرب امارات میں پاکستانی پولٹری مصنوعات پر بھارت کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جبکہ قطر، کویت اور عمان جیسے خلیجی ممالک میں پاکستانی انڈے منفی فہرست میں شامل ہیں۔ نمائندوں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بھرپور تعاون کرے تو پولٹری مصنوعات کی برآمد میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان سے اس وقت تقریباً 100 کنٹینرز انڈے برآمد کیے جاتے ہیں۔

پولٹری صنعت نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ جن ممالک میں پاکستانی انڈے منفی فہرست میں شامل ہیں، وہاں سفارتی سطح پر فوری مداخلت کرکے تمام پابندیاں ختم کرائی جائیں اور سعودی عرب کے فوڈ لائسنس کے حصول میں بھی پاکستانی کمپنیوں کی بھرپور مدد کی جائے۔ پولٹری صنعت کے نمائندوں نے یہ بھی کہا کہ درآمدی سویابین کی زیادہ قیمت اور پولٹری ادویات پر عائد بھاری ڈیوٹی کے باعث پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مرغی کے گوشت اور انڈوں سے متعلق پھیلائے جانے والے منفی مواد کو بھی صنعت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا اور ایسے منفی مواد کی مؤثر روک تھام کے لیے فوری قانون سازی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس کے اختتام پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 6 خلیجی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر اور عمان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے حوالے سے پیش رفت کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔