پنجاب میں غیر مسلم قیدی بھی مذہبی تعلیم پر سزا میں رعایت کے حقدار

قرارداد حکومتی رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے پیش کی، جس کی ایوان میں کسی رکن کی جانب سے مخالفت نہیں کی گئی اور اسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔

September 2, 2026 · قومی
پنجاب اسمبلی میں اقلیتی قیدیوں کے حق میں اہم قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی میں اقلیتی قیدیوں کے حق میں اہم قرارداد منظور

لاہور: پنجاب اسمبلی نے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو جیلوں میں مذہبی تعلیم حاصل کرنے اور کامیابی کی صورت میں قانون کے مطابق سزاؤں میں کمی کا حق دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

قرارداد حکومتی رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے پیش کی، جس کی ایوان میں کسی رکن کی جانب سے مخالفت نہیں کی گئی اور اسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔

قرارداد میں پنجاب پریزن رولز 1978 کے رول 215 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے قیدیوں کو قانون کے تحت سزا میں رعایت یعنی قید کی مدت میں کمی دی جاتی ہے۔

قرارداد کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے تحت 2020 سے 2025 کے دوران تقریباً 2 ہزار 558 مسلمان قیدیوں نے دینی تعلیم حاصل کرکے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا، تاہم اقلیتی قیدیوں کے لیے اس نظام پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

ایوان نے مؤقف اختیار کیا کہ عیسائی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بھی اپنے مذہبی نصاب کی تعلیم حاصل کرنے، امتحانات میں شرکت اور کامیابی کی بنیاد پر قانون کے مطابق سزاؤں میں رعایت حاصل کرنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

قرارداد میں بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں میں تقریباً ایک ہزار 624 اقلیتی قیدی موجود ہیں، اس لیے ان کے لیے مذہبی تعلیم اور امتحانات کا باقاعدہ نظام قائم کرنا ضروری ہے۔

پنجاب اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رول 215 پر بلاامتیاز فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے، اقلیتی قیدیوں کے لیے مذہبی تعلیم اور امتحانات کا باقاعدہ انتظام کیا جائے اور کامیاب قیدیوں کو قانون کے مطابق سزا میں رعایت دی جائے۔

قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ معاملے کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ عمل درآمد کا جائزہ لے کر ضروری سفارشات پیش کی جاسکیں۔