اسلام آباد کے مراکزِ صحت کی فوری لائسنسنگ کا فیصلہ،آغاز اسپتالوں سے ہوگا
اسلام آبادمیں قائم ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی تقریباً 7سال بعد لائسنسنگ کا عمل شروع کرنےجا رہی ہے
فائل فوٹو
سانحہ پمز کے بعد اسلام آباد کے مراکزِ صحت کی لائسنسنگ کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے رجسٹریشن بورڈ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے مراکزِ صحت کو مرحلہ وار لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسپتالوں کی لائسنسنگ کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں کلینکس، لیبارٹریز اور بلڈ بینکس کو لائسنس جاری ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لائسنس جاری کرنے سے قبل اسپتالوں کا ازسرنو تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے لیے خصوصی ماہرین کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ لائسنس کے حصول کے لیے مراکزِ صحت کو اسلام آباد ہیلتھ ریکولرٹی کے مقرر کردہ 303 اعشاریوں پر پورا اترنا ہوگا۔
اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی رجسٹرڈ مراکزِ صحت کو 5 سال کے لیے لائسنس جاری کرے گی، جبکہ اس وقت اتھارٹی سے 2300 سے زائد مراکزِ صحت رجسٹرڈ ہیں۔ ذرائع کے مطابق مراکزِ صحت کی موجودہ رجسٹریشن ایک سال کے لیے کی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق لائسنس اجرا کی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے رجسٹریشن بورڈ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں قائم ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی تقریباً 7 سال بعد لائسنسنگ کا عمل شروع کرنے جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے بھی 12 سال بعد لائسنسنگ کا عمل شروع کیا ہے، جبکہ سانحہ پمز کے بعد اسلام آباد میں مراکزِ صحت کی لائسنسنگ کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔