یورو بانڈ، عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہونے کا ثبوت ہے: وزیر خزانہ
یورو بانڈ کے اجرا کے لیے موصول ہونے والے آرڈرز بانڈ کی پیش کردہ مالیت سے تقریباً دو گنا تھے
فائل فوٹو
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا ملکی معیشت پر عالمی سرمایہ کاروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی ٹیکس اصلاحات سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی بانڈ ٹرانزیکشن ہے۔ ان کے مطابق اپریل 2025 کے بعد پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ یورو بانڈ کے اجرا کے لیے موصول ہونے والے آرڈرز بانڈ کی پیش کردہ مالیت سے تقریباً دو گنا تھے، جبکہ ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت ٹیکس نظام میں جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے اور ٹیکس دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورو بانڈ کے لیے پانچ سال اور 10 سال کی مدت پر بہتر قیمت حاصل ہوئی۔ ان کے بقول 3 ارب ڈالر کے بانڈ کا اجرا کوئی اچانک فیصلہ نہیں بلکہ تین سالہ درمیانی مدت کی جی ایم ٹی این حکمت عملی کا حصہ ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی بیرونی قرضوں کی مدت بڑھانے اور قرضوں کی دوبارہ ادائیگی سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔ پاکستان بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے سکوک، ڈالر میں طے شدہ بانڈز اور پانڈا بانڈز سمیت مختلف ذرائع استعمال کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد بحال ہوا ہے اور یہ اعتماد نہ صرف موجودہ معاشی صورتحال بلکہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے بھی ہے۔