ایرانی فوج کے کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں پر نئے حملے
تہران نے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر دیا
فائل فوٹو
ایرانی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے جمعرات کو علی الصبح ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں آپریشن صاعقہ کے 31 ویں مرحلے کے تحت کیے گئے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز نے کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، ساز و سامان کے گوداموں اور جنگی طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنایا جس سے مواصلاتی نظام اور ہینگرز کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فوج کے مطابق متحدہ عرب امارات میں میزائلوں اور ڈرونز نے المہناد ایئر بیس پر امریکی فوج کے جوانوں کے ٹھکانوں اور ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے تہران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے جواب میں اپنے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر کویت کی وزارت خارجہ نے خلیجی ریاست کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملے پر تہران کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان حملوں کو ملکی سلامتی، استحکام اور شہریوں کی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی سنگین خلافورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی ہلال احمر سوسائٹی نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی قصبے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے امریکی میزائل حملے کی تحقیقات کی جائیں جس میں کم از کم 4 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تہران کی رضامندی کے بغیر نہیں کھولی جائے گی اور اس بات پر زور دیا کہ ایران نے امریکہ کو اپنے خطرات قابلِ یقین بنانے کی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔