پمز کی حالت پر وزیر صحت برہم، ناکام افسران کو فارغ کرنے کا حکم
وفاقی وزیر نے الیکٹرو فزیالوجی کیتھ لیب کا بھی معائنہ کیا اور مریضوں سے علاج معالجے کی سہولیات اور انہیں درپیش مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔
فوٹوسوشل میڈیا ایکس
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز کے کارڈیک سینٹر کا دورہ کیا اور اسپتال کے مختلف شعبوں، کمروں اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران وفاقی وزیر نے الیکٹرو فزیالوجی کیتھ لیب کا بھی معائنہ کیا اور مریضوں سے علاج معالجے کی سہولیات اور انہیں درپیش مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔
پمز کے پرائیویٹ رومز کی حالت دیکھ کر مصطفیٰ کمال نے انتظامی امور اور عمارت کی دیکھ بھال پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے خراب دیوار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ صرف پینٹ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اگر دیوار گر گئی تو کسی بڑے حادثے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر سلمان سے کہا کہ اسپتال کے معاملات کو سمجھنے کے لیے طویل وقت دستیاب نہیں، فوری طور پر بہتری کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کی مینٹیننس اور انتظامی معاملات پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔
مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ جو افسر یا ملازم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا، اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی عہدیدار کا کسی بااثر شخص سے تعلق ہونا کام میں کوتاہی کی اجازت نہیں دیتا۔
کام نہیں ہو رہا تو نکالیں، فارغ کریں لوگوں کو، جس فرد کے ہوتے ہوئے کچھ نہیں ہو رہا تو مزید برا کیا ہو گا اسے فارغ کریں
وزیر صحت مصصطفی کمال نے پمز میں معاملات سدھارنے کا اصول طے کر دیا pic.twitter.com/cViYwtSxss— Shahid Abbasi (@ShahidabbasiPk) September 4, 2026
وفاقی وزیر صحت نے انتظامیہ سے کہا کہ اگر کوئی ملازم فرائض انجام نہیں دے رہا تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کام نہ کرنے والے افراد کی نشاندہی کی جائے تو ان کے خلاف کارروائی کرنے میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔
دورانِ دورہ پمز انتظامیہ نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ اسپتال میں انتظامی اختیارات ایک ہی مرکز میں مرتکز ہیں، جس کی وجہ سے مختلف شعبوں کے امور متاثر ہوتے ہیں۔
اس پر مصطفیٰ کمال نے انتظامیہ سے کہا کہ وہ تحریری طور پر اپنی تجاویز پیش کرے کہ اختیارات کی تقسیم اور اسپتال کے انتظامی ڈھانچے کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ قابل عمل تجاویز کی روشنی میں انتظامی اختیارات کی تقسیم پر غور کیا جائے گا۔