دہلی پولیس کا مسلمان خواتین صحافیوں پر تشدد،بازوؤں پر نشانات کی ویڈیو وائرل

نئی دہلی میں مسلمان خواتین صحافیوں سے مبینہ پولیس تشدد، صحافتی تنظیموں کا احتجاج

September 4, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 2 مسلمان خواتین صحافیوں کو ساکیت تھانے میں پولیس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنی مسلم شناخت ظاہر کرنے کے بعد ان پر بدترین تشدد کیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فری لانس صحافی شاہین خان اور ان کی ساتھی نفیسہ خان دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کی شرکت والے ایک پروگرام کی کوریج کے لیے آئی تھیں۔

مسلمان خاتون صحافی شاہین خان نے ساکیت پولیس اسٹیشن سے جاری کی گئی ویڈیو رپورٹ میں بتایا کہ انہیں اور ان کی ساتھی کو محض وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ سے سوال کرنے پر پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ اس دوران نام پوچھا گیا اور جب انہوں نے ’شاہین خان‘ بتایا تو اہلکاروں نے بدترین تشدد کیا۔

رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں شاہین خان نے اپنے بازو پر تشدد کے نشانات دکھائے، جبکہ ان کی ساتھی نفیسہ خان کو شدید تکلیف میں دیکھا گیا۔

شاہین خان نے کہا کہ دونوں صحافیوں کو ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں تھپڑ مارے اور لاٹھیوں سے بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

دہلی پولیس کی جانب سے کیے گئے تشدد کے بعد ڈیجیٹل پبلشرز اینڈ نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن سمیت صحافتی تنظیموں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی آزادانہ تحقیقات، پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔