غزہ سے تمام فلسطینیوں کو 6 سال میں نکالنے کا مرحلہ وار منصوبہ سامنے آگیا
اسرائیلی وزیر ایتمار بین گویر نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کا منصوبہ پیش کردیا
فائل فوٹو
اسرائیلی حکومت میں شامل داخلی سلامتی کے وزیر اور انتہا پسند رہنما ایتمار بین گویر نے جمعرات کے روز غزہ سے فلسطینیوں کے مکمل صفائے کا ایک مرحلہ وار منصوبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے سارے فلسطینیوں کو یہاں سے نکال کر دنیا کے مختلف ملکوں میں چھوڑ دیا جائے۔
وہ جمعرات کے روز ایک انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ بین گویر نے اسرائیلی ووٹرز کو یقین دلایا کہ ایسے کئی ممالک موجود ہیں جو فلسطینیوں کو اپنے ہاں رکھنے پر تیار ہیں، تاہم انہوں نے ان ملکوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
فلسطینیوں سے پاک غزہ منصوبے کی تفصیلات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے پہلے سال میں 2 لاکھ 50 ہزار فلسطینیوں کو بیرون ملک منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد بقیہ 20 لاکھ فلسطینیوں کو بھی ایک مرحلہ وار منصوبے کے تحت ان ملکوں میں منتقل کیا جائے گا جو فلسطینیوں کو اپنے ہاں رکھنے پر تیار ہو چکے ہیں۔
بین گویر کے مطابق یہ سارا عمل اگلے چھ سال کے دوران مکمل کرلیا جائے گا۔ بین گویر نے اپنے اس منصوبے کو حقیقت پسندانہ قرار دیا اور اس لیے اسے کئی مرحلوں میں تقسیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ جبری طور پر اپنے ملک سے شہریوں کو نکالا جانا جنیوا کنونشن کے تحت جرم ہے۔ تاہم اسرائیل کے لیے جنیوا کنونشن یا بین الاقوامی قانون اس وقت کوئی معنی نہیں رکھتا جب اسرائیل کے سامنے فلسطینیوں کو ڈیل کرنے کا معاملہ ہو۔