کراچی ڈیفنس تشدد کیس،علی جعفری پر تشدد کا ملزم گرفتار

مقدمہ درج کرانے میں تاخیر کی وجہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر ملنے والی دھمکیاں تھیں۔علی جعفری

September 5, 2026 · قومی
کراچی ڈیفنس تشدد کیس،علی جعفری پر تشدد کا ملزم گرفتار

کراچی ڈیفنس تشدد کیس،علی جعفری پر تشدد کا ملزم گرفتار

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نوجوان علی جعفری پر مبینہ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں نامزد ملزم ابراہیم کو حراست میں لے لیا ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق علی جعفری پر تشدد کے الزام میں ابراہیم کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ نوجوان نے پولیس کو اپنا بیان بھی ریکارڈ کرا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علی جعفری کی مدعیت میں مقدمہ ساحل تھانے میں درج کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ نوجوان علی جعفری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ مستقبل میں کسی اور نوجوان کے ساتھ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد دل کے مریض ہیں اور ان کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں تھا۔

علی جعفری کے مطابق مقدمہ درج کرانے میں تاخیر کی وجہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر ملنے والی دھمکیاں تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تشدد کے دوران ایک شخص نے ان پر پستول بھی تان رکھی تھی۔

علی جعفری نے بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ ڈیفنس فیز 6 میں کھانا کھانے گئے تھے اور بعد میں اپنے دوست علی فیصل کے ساتھ گیمنگ کے لیے گئے۔ ان کے مطابق انہیں ایک گاڑی میں زبردستی بٹھا کر لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔

متاثرہ نوجوان کا کہنا تھا کہ ملزمان اس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے رہے اور رقم بھی طلب کی گئی۔ علی جعفری نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ان کے والٹ اکاؤنٹ کو استعمال کرتے ہوئے خریداری بھی کی۔

علی جعفری نے پیسوں کے لین دین کے معاملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس تنازع کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے دوران وہ مسلسل پوچھتے رہے کہ انہیں کیوں مارا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ مبینہ طور پر تشدد کرنے والے افراد کو پہلے سے نہیں جانتے تھے۔ ان کے مطابق انہیں گاڑی میں بٹھانے کے بعد ہی ان افراد کے نام معلوم ہوئے۔

علی جعفری کے دوست نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مبینہ تشدد کرنے والے نوجوان کے والدین کو کئی روز بعد معاملہ ختم کرنے کی بات یاد آئی۔ ان کے مطابق علی جعفری پر جس نوعیت کا تشدد کیا گیا، اس کی تمام تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں اور مقدمے میں مکمل حقائق شامل کیے جائیں گے۔

دوسری جانب واقعے سے متعلق پہلے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق علی جعفری کو مبینہ طور پر بخاری کمرشل بلایا گیا، جہاں سے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر ساحل تھانے کی حدود میں لے جایا گیا۔

اہلِ خانہ اور علی جعفری کے ٹیچر عبداللہ جمال نے الزام عائد کیا تھا کہ نوجوان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کی ٹانگ پر ڈنڈا مارا گیا جبکہ بال بھی زبردستی کاٹنے اور تضحیک آمیز سلوک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

عبداللہ جمال کے مطابق معاملے کو ابتدا میں دونوں خاندانوں کے درمیان رضامندی سے حل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بعد میں مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

علی جعفری کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ صرف انصاف کا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ واقعے میں جو بھی ذمہ دار ہے، اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ مقدمے میں شامل دیگر ملزمان اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی بھی تفتیش کی جارہی ہے۔