امریکہ نے 703 ملین ڈالر فراڈ کیس میں چار پاکستانیوں کو مطلوب قرار دے دیا

ایک خاتون شامل۔کال سنٹر چلارہے تھے،معلومات چوری کیں

September 5, 2026 · امت خاص
تصویر: سوشل میڈیا

تصویر: سوشل میڈیا

 

امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے آفس آف انسپکٹر جنرل نے چار پاکستانی شہریوں کو میڈیکیئر فراڈ کے ایک بڑے کیس میں مطلوب قرار دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان میں کال سینٹر کے ذریعے میڈیکیئر آئی ڈیز چوری کر کے جھوٹے دعوے جمع کرائے اور تقریباً 703 ملین امریکی ڈالرکا فراڈ کیا۔

 

جن افراد کو مطلوب قراردیاگیاہے ان میں 41سالہ رکن الدین چارولیا،31سالہ شہریارعارف،31سالہ فیضان سلیم،اور31سالہ فضہ فریدشامل ہیں۔ان سب کے ممکنہ ٹھکانے پاکستان یا متحدہ عرب امارات بتائے گئے ہیں۔

الزامات کے مطابق ان افراد نے پاکستان میں “ہیلو انٹرنیشنل مارکیٹنگ سلوشنز” نامی کال سینٹر چلایا۔ وہاں سے میڈیکیئر مستحقین کی معلومات چوری کی گئیں، بعض اوقات جھوٹی ویب سائٹس اور دیگر طریقوں سے۔ پھر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے مریضوں کی رضامندی کی جعلی ریکارڈنگز تیار کی گئیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر کووڈ 19ٹیسٹ کٹس، ڈریبل میڈیکل ایکوپمنٹ اور جینیٹک ٹیسٹس کے جھوٹے بل میڈیکیئر اور میڈیکیئر ایڈوانٹیج پلانز کو بھیجے گئے۔ میڈیکیئر نے ان دعووں پر تقریباً 418 ملین ڈالر ادا کیے۔

 

یہ الزامات 2025 کی نیشنل ہیلتھ کیئر فراڈ ٹیک ڈاؤن کا حصہ ہیں، جس میں شمالی الینوائے کی وفاقی عدالت میں انڈکٹمنٹ دائر کی گئی تھی۔ کچھ ملزمان پہلے ہی فرار ہو چکے ہیں اور اب ان کے پوسٹرز جاری کر دیے گئے ہیں۔

امریکی حکام نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو ان افراد کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر رابطہ کریں۔